کنیڈا سے علاحدگی کی تجویز البرٹا کے عوام نے اکثریت سے مسترد کر دی

albert people d 1


کنیڈا کے صوبے البرٹا کے ووٹروں نے ملک سے علاحدگی کی سمت قانونی عمل شروع کرنے کی تجویز کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔ الیکشنز البرٹا کے جاری کردہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق، یہ نتیجہ وزیراعظم مارک کارنی اور قومی اتحاد کے حامیوں کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
15 لاکھ سے زائد ووٹوں کی گنتی کے بعد تقریباً 76 فیصد ووٹروں نے کنیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی، جبکہ تقریباً 24 فیصد نے علیحدگی پر مستقبل میں ریفرنڈم کرانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیراعظم مارک کارنی نے نتیجے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ البرٹا کے عوام نے اتحاد، ترقی اور آپس میں تعاون کا واضح انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ البرٹا کے عوام نے کنیڈا کو منتخب کیا ہے۔ ایڈمنٹن میں پرورش پانے والے کارنی نے کہا کہ یہ نتیجہ ملک کو تجارتی شعبے میں تنوع دینے، بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور البرٹا کو مرکز بنا کر کنیڈا کو عالمی توانائی کی بڑی طاقت بنانے میں مدد دے گا۔
البرٹا کی وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے بھی نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ووٹروں نے متحدہ کنیڈا میں ایک مضبوط البرٹا کا انتخاب کیا ہے۔ تاہم علاحدگی کی مہم چلانے والوں نے کہا کہ نتائج وفاقی حکومت سے عوام کی مسلسل ناراضگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تحریک کے رہنما کیتھ ولسن کے مطابق کم از کم ایک چوتھائی البرٹا کے باشندے سمجھتے ہیں کہ صوبے کے ساتھ بہتر سلوک کیا جانا چاہیے۔
ووٹروں سے براہِ راست یہ نہیں پوچھا گیا کہ آیا البرٹا کو آزاد ملک بننا چاہیے، بلکہ سوال یہ تھا کہ کیا صوبائی حکومت کو علیحدگی پر پابند ریفرنڈم کرانے کے لیے ضروری قانونی عمل شروع کرنا چاہیے۔ پیر کو ووٹروں کے سامنے امیگریشن، صحت، تعلیم اور صوبے کے آئینی اختیارات سمیت 10 سوالات رکھے گئے تھے۔
صوبے کے تقریباً 1,400 پولنگ مراکز میں سے لگ بھگ 100 پر تاخیر کے باعث نتائج کا اعلان دو گھنٹے سے زیادہ دیر سے ہوا۔ الیکشنز البرٹا کے مطابق باقی نتائج کو حتمی شکل دینے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ اہل ووٹروں میں سے تقریباً 43 فیصد، یعنی لگ بھگ 13 لاکھ افراد، نے پہلے ہی پیشگی ووٹنگ یا ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈال دیا تھا۔

متعلقہ پوسٹ