امریکہ کے پاکستان کےساتھ تعلقات بھارت کے ہی کام آتے ہیں، امریکہ وزیر خارجہ کی بمبئی میں بھارتی میڈیا کو طفل تسلیاں

news 1792594537 6161



news 1792594537 6161

(ویب ڈیسک)  امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکہ کو  پاکستان کے ساتھ پالیسی اختلافات کے باوجود جوہری ہتھیاروں کے حامل ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔  مارکو روبیو نے یہ بات بھارت کے دورہ کے دوران بمبئی میں پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں حالیہ قربت سے جلے ہوئے بھارتی اسٹیئبلشمنٹ کے پالتو صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہی۔

روبیو نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ رابطے اور بات چیت علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

مارکو روبیو نے پاکستان کے بارے میں یہ  گفتگو  آج 20 اکتوبر   کو  بھارت کے صنعتی ہب بمبئی میں نریندر مودی کی حکومت کے لئے نرم گوشہ رکھنے والی نیوز آؤٹ لیٹ انڈین ایکسپریس کے صحافیوں کے ساتھ  ایک انٹرویو کے دوران کی۔ یہ انٹرویو  آج 21 اکتوبر کو دی انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا۔ اس کا پس منظر بھارت میں امریکی سفارت کاری، پاکستان اور  امریکہ کے  بڑھتے ہوئے تعلقات، رابطوں اور نئی دہلی میں نریندر مودی کی حکومت کو پاک امریکہ تعلقات پر  ہونے والی دردیں ہیں۔
امریکہ طویل عرصے سے پاکستان اور انڈیا دونوں کے ساتھ سفارتی اور دفاعی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ لیکں حالیہ برسوں کے دوران نریندر مودی کی حکومت کو  صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے مغربی ملکوں سے سرد مہری مل رہی ہے جس سے نریندر مودی مسلسل پریشان رہتے ہیں۔پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات بین الاقوامی سطح پر متنازع  تسلیم کئے گئے ہمالیائی خطے کشمیر ، دریاؤں کے پانی کے معاہدہ کی بھارتی سائیڈ سے مسلسل وائلیشن اور  پاکستان کی سرزمین پر عسکریت پسندی کو ہوا دینے  کی بھارتی سازشوں کے باعث کشیدہ ہیں۔

دس مئی 2025 کوجب پاکستان نے جوابی حملے کر کے بھارت کی ائیر ڈیفینس کو ناکارہ کر دیا تھا اور پاکستان سے ملحق تمام علاقوں میں بھارت کی فوجی تنصیبات کو شدید نقصانات پہنچائے تھے تو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی حکومت کی درپردہ درخواست پر پاکستان کو فوری جنگ بندی کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ 
  یہ بھی پڑھیئے:  ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے آج یقین آگیا، لائبہ کے والد کی محسن نقوی سے گفتگو 
 بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سال 2025 میں مارکو روبیو نے یہ عہد بھی کیا تھا کہ پاکستان اگر انڈیا کے خلاف عسکریت پسندی کی سرپرستی کرتا ہے تو وہ پاکستان کے لیے امریکی سکیورٹی امداد بند کرنے کے لیے قانون سازی کی تجویز پیش کریں گے، وہ اُس وقت مارکو روبیو امریکی سینیٹ کے رُکن تھے۔
 
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو جو  اِس وقت انڈیا کے دورے پر ہیں، وہ  ایک جانب انڈیا کے ساتھ امریکہ کی شراکت داری  کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں  تو دوسری جانب جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے انڈین اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ایک اور نیوز آؤٹ لیٹ نیوز 18 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ تعلقات رکھنا ضروری ہیں۔ اِس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور جغرافیائی اعتبار سے بھی ہمیں اِس کے ساتھ رابطے اور بات چیت کے قابل ہونا چاہیے، بالکل اُسی طرح جیسے انڈین حکومت کو ایران کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے اور اُس کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے کی ضرورت ہے اور وہ ایسا کرتی بھی ہے۔‘
 روبیئو نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ کسی حد تک ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، کیوں کہ اگر ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہوں اور ہم اِس سے بات کر سکیں تو شاید اِس کے ذریعے ہم اُن سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنے میں مدد دے سکیں جن پر انڈیا کو تشویش ہے۔‘

یہ بھی پڑھیئے:  ملتان میں یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک 
انڈیا ماضی میں یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستان کشمیر کے اُس حصے میں عسکریت پسندوں کی حمایت کرتا ہے جو  انڈیا کے قبضہ میں ہے۔  لیکن آج کل کئی سال سے صورتحال اس کے عین برعکس ہے اور  پاکستان یہ الزام عائد کرتا ہے کہ انڈیا افغانستان سے متصل پاکستان کے مغربی صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا  میں حملے کرنے والے  دہشت گرد  گروہوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ 
گذشتہ سال دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان ایک مختصر لیکن شدید فوجی تصادم بھی ہوا تھا، جس کا آغاز انڈین زیرِ انتظام کشمیر میں ایک خود ساختہ حملے کے بعد ہوا جس میں مبینہ طور پر بھارت کی ہی انٹیلیجنس ایجنسی ملوث تھی۔ اِس کارروائی کی آڑ مین بھارتی ائیر فورس نے آٹھ پاکستانی سویلین مساجد اور مدرسوں پر  میزائلوں سے حملے کئے۔ ان حملوں کو کاؤنٹر کرنے کے لئے پاکستانی ائیرفورس کی کارروائی مین کم از کم چھ بھارتی لڑاکا طیارے تباہ ہو گئے۔ اس کے بعد تین دن کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف

ڈرون، میزائلوں،  اور توپ خانے کا آزادانہ استعمال کیا۔ 10 مئی کی صبح پاکستان نے فیصلہ کن جوابی کارروائی کی جو ڈھائی گھنٹے جاری رہی۔ اس کے نتیجہ مین بھارت کا دفاع عملاً مفلوج ہو گیا۔  بعد ازاں دونوں ممالک امریکہ کے صدر ٹرمپ کی مداخلت پر  جنگ بندی پر متفق ہو گئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ بندی امریکی ثالثی کے نتیجے میں ممکن ہوئی، پاکستان نے اس کی تصدیق کی لیکن خود اپنی اشتعال انگیزی کے بعد  مار کھا کر بوکھلائے ہوئے  انڈیا نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
 کل مارکو روبیو نے انڈین نشریاتی ادارے نیوز 18 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ تعلقات رکھنا  امریکہ کے لئے اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ تعلق بعد مین انڈیا کے ہی کام آتا ہے۔

 روبیو نے کہا کہ ’وہ اگرچہ ماضی میں امریکی سینیٹر کی حیثیت سے اس معاملے (پاکستان پر بھارت کو واضح ترجیح دینے) پر اپنا مؤقف بیان کر چکے ہیں، لیکن اب وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے اُن کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کے وسیع تر تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔‘

یہ بھی پڑھیئے:   لاہور میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک جا پہنچی،انتظامیہ بے بس
روبیو نے کہا کہ ’ہم دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ہم ہر اُس شخص کے مخالف ہیں جو دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے۔‘
مارکو روبیو نے مزید کہا  کہ ’اپنے نئے منصب میں اب میں سینیٹر نہیں بلکہ وزیرِ خارجہ ہوں۔ مجھے امریکہ کی خارجہ پالیسی کے معاملات چلانے ہیں، اور اِس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھیں، جن میں وہ ممالک بھی شامل ہے جن کے ساتھ بعض معاملات پر ہمارے اختلافات ہو سکتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیئے:  ناک، گلے،  چیسٹ، گردہ کے انفیکشن کی اینٹی بائیوٹک ادویات پکڑی گئیں 





Source link

متعلقہ پوسٹ