14 اکتوبر 2026 کی اس تصویر میں پارلیامنٹ مارگ پولیس اسٹیشن کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی)کے قومی تنظیمی انچارج اجنکیہ شندے اور پارٹی کے شریک کنوینر آشوتوش رانکا اور سوربھ داس نظر آ رہے ہیں۔ (ابھجیت دیپکے/ایکس کے توسط سے پی ٹی آئی فوٹو)
دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے جنتر منتر پر احتجاج سے متعلق معاملوں میں سی جے پی کے رہنماؤں سوربھ داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیہ شندے کو پوچھ گچھ کے لیے سمن بھیجا ہے۔ داس اور رانکا کو عدالتی حراست سے رہائی کے اگلے ہی دن، جمعرات (22 اکتوبر) کو راجوری گارڈن واقع دفتر میں پیش ہونے کو کہا گیا ہے۔
نئی دہلی: دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی)کے رہنماؤں سوربھ داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیہ شندے کو جنتر منتر پر ہوئے احتجاجی مظاہرے سے متعلق معاملوں میں پوچھ گچھ کے لیے سمن بھیجا ہے۔
سوربھ داس اور رانکا کو جمعرات کی دوپہر 12 بجے راجوری گارڈن واقع کرائم برانچ کے دفتر میں پیش ہونے کو کہا گیا ہے۔ اجنکیہ شندے کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
یہ سمن دونوں رہنماؤں کی عدالتی حراست سے رہائی کے ایک دن بعد جاری کیا گیا ہے۔ دہلی کے مندر مارگ واقع اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت نے بدھ، 21اکتوبر کو پولیس کی حراست بڑھانے کی مانگ خارج کر دی تھی۔
عدالت نے دونوں کو 50-50 ہزار روپے کےنجی اور ضمانتی مچلکے بھرنے اور امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی پابندی کرنے کی تحریری یقین دہانی دینے کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے دونوں رہنماؤں سے کہا کہ جب تک جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پرہٹانے کا عمل قانون کے مطابق پورا نہیں ہو جاتا، وہ وہاں احتجاج کی اپیل نہ کریں۔ ساتھ ہی، انہیں ہدایت دی گئی کہ مستقبل میں ہونے والے احتجاج آئین کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں۔
احتجاج سے متعلق دو معاملے کرائم برانچ کوسونپے گئے
سی جے پی کے رہنماؤں کے خلاف 13اکتوبر کو جنتر منتر پر ہوئے احتجاج کے سلسلے میں دو معاملے درج کیے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے دونوں معاملوں کو آگے کی جانچ کے لیےکرائم برانچ کو سونپ دیا ہے۔ ا ایک معاملہ کناٹ پلیس تھانے اور دوسرا سنسد مارگ تھانے میں درج ہے۔
پولیس کے مطابق، سی جے پی کے ارکان جنتر منتر میں داخل ہونے اور وہاں قومی پرچم لہرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ مظاہرین نے بیریکیڈ پار کیے اور ایک نجی ادارے کے علاقے میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد پولیس نے مداخلت کی۔
کناٹ پلیس تھانے میں درج ایف آئی آر میں سرکاری ملازم کے حکم کی نافرمانی، کسی عمارت یا احاطے میں غیر مجاز داخلے اور مجرمانہ سازش سے متعلق دفعات لگائی گئی ہیں۔ سنسد مارگ تھانے میں درج دوسرے معاملےمیں سرکاری ملازمین کے کام میں رکاوٹ ڈالنے، ان پر حملہ کرنے اور پولیس اہلکاروں کوچوٹ پہنچانے کے الزامات ہیں۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق، جانچ میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 188 سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں۔
سات دن حراست میں رہنے کے بعد رہائی
داس اور رانکا کو 14 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ دونوں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سی جے پی کا الزام ہے کہ ایس آئی آرکے دوران ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیاں ہوئیں اور لوگوں کے نام ہٹائےگئے۔
اس سے پہلے، 10اکتوبر کو بھی دونوں رہنماؤں کو دہلی ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس نے ان سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مچلکے بھروائے تھے۔ 14 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کے بعد پولیس نے الزام لگایا کہ دونوں رہنماؤں نے امن برقرار رکھنے کے لیے پہلے دی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی۔
بدھ کو اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے پولیس کی جانب سے حراست میں اور تین دن کی توسیع کی درخواست منظور نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی جانب سے تحریری یقین دہانی اور مچلکے جمع کرائے جانے کے بعد انہیں اورحراست میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 23 اکتوبر کو ہونی ہے۔
کرائم برانچ کی جانب سے سمن جاری کیے جانے کے بعد اب دونوں رہنماؤں کو جنتر منتر احتجاج سے متعلق معاملوں میں جانچ ٹیم کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔

