خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس کے مطابق جمعرات کو عسکریت پسندوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈی ایس پی عمران الدین سمیت چار پولیس اہلکار جان سے گئے۔
کرک پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ خرم کی حدود میں پیش آیا، جہاں پولیس نے عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر چھاپہ مارا تھا۔
کرک پولیس کے کنٹرول روم کے اہلکار نورزادہ نے انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اظہار اللہ کو بتایا کہ چارتیرہ کے علاقے میں چھاپے کے دوران پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
ان کے مطابق اس جھڑپ میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی عمران الدین، ایس ایچ او افضل اعوان، سی ٹی ڈی اہلکار کاظم خان اور بم ڈسپوزل سکواڈ کا ایک اہلکار جان سے گئے۔
نورزادہ نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ایک عسکریت پسند بھی مارا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کرک میں پولیس اہلکاروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈی ایس پی عمران الدین سمیت چار اہلکاروں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔
گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔
خیبرپختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران عسکریت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی پولیس کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں 2025 کے دوران عسکریت پسندی کے 1,588 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

