امریکی عدالت کا ٹرمپ کو بی بی سی کیخلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں حلفاً بیان ریکارڈ کرانے کا حکم

news 1792740557 9271



news 1792740557 9271

(ویب ڈیسک)امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بی بی سی کیخلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں حلف کے تحت سوالات کے جواب دینے کا حکم دیدیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے خبردار کیا  کہ اگر ٹرمپ نے 11 دسمبر تک حلفاً بیان ریکارڈ نہ کرایا تو ان کا بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر کا مقدمہ خارج کیا جا سکتا ہے،بی بی سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا ہے کہ ٹرمپ 16 اکتوبر کو طے شدہ بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش نہیں ہوئے اور انہوں نے اس روز جارجیا میں انتخابی مہم میں شرکت کو ترجیح دی۔

 ٹرمپ کے وکلا نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر جنوری میں سوالات کے جواب دینے کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں۔

امریکی مجسٹریٹ جج اینجولیک لیٹ نے حکم دیا  کہ ٹرمپ مقررہ تاریخ تک اپنا بیان ریکارڈ کرائیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جن میں مقدمے کا اخراج بھی شامل ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2025ء میں بی بی سی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، ان کا مؤقف ہے کہ بی بی سی کے ایک پروگرام میں 6 جنوری 2021ء کی ان کی تقریر کے 2 مختلف حصوں کو جوڑ کر نشر کیا گیا، جس سے تقریر کا مفہوم گمراہ کن انداز میں پیش ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگرد جہاں کہیں بھی ہوں گےانہیں بھرپورطریقے سے نشانہ بنائیں گے: فیلڈ مارشل

دوسری جانب  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جلد ہی ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا اشارہ دیدیا، وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکا جلد ہی ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔

 صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کو  بری طرح نشانہ بنایا ہے اور ممکن ہے کہ ہم مزید کچھ کارروائی بھی کریں۔

 امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران ووٹرز پر جنگ کے اثرات سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایک لحاظ سے وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب ممکن ہے کہ وہ اسے پسند نہ کریں۔ اس کی ایک قیمت چکانا پڑتی ہے، جس کا مجھے یہ قدم اٹھاتے ہی اندازہ تھا، لیکن ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

 اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت نہیں کررہے، تنازع کے حوالے سے جلد کچھ نہ کچھ ہوگا۔

 ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا فوجی اور مالی اعتبار سے ایران کے خلاف بہت اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔

 بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ امریکا کے مڈٹرم الیکشنز سے پہلے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

  امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کےبعد ایران پر دوبارہ حملوں کا منصوبہ بنالیا ہے، دونوں ممالک کی افواج ممکنہ حملوں کی مشقیں بھی تیز کرچکی ہیں، ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائل اور ڈرونز ذخائرشامل ہیں۔

 





Source link

متعلقہ پوسٹ