واشنگٹن: امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ روس اور یوکرین جنوبی یوکرین کے روسی قبضے میں موجود شہر اولیشکی میں عارضی اور مقامی جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ جنگ بندی انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے محفوظ انخلا کے لیے 29 اکتوبر سے شروع ہوگی۔
میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ اولیشکی ایک سنگین انسانی بحران کا شکار فرنٹ لائن شہر ہے، جہاں باقی رہائشیوں کو فوری طبی امداد، ادویات، خوراک اور صاف پانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے بغیر شہر میں امداد پہنچانا اور بزرگ شہریوں کو نکالنا تقریباً ناممکن تھا۔
وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق خاتون اول اور ان کے نمائندوں نے جنگ بندی کی شرائط طے کرنے کے لیے روسی اور یوکرینی قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطہ کیا۔ اس انتظام کے تحت دونوں ممالک کے غیر فوجی شہری نمائندے رہائشیوں کے گھروں تک جا کر ان کی ضروریات کا جائزہ لیں گے، جبکہ جو افراد انخلا چاہیں گے انہیں روس یا یوکرین میں اپنی پسند کی منزل تک نقل و حمل فراہم کی جائے گی۔
تاہم جنگ بندی کے آغاز کی تاریخ پر ابتدائی اختلاف رہا: وائٹ ہاؤس نے 29 اکتوبر بتایا، جبکہ یوکرین کی فوجی کمانڈ اور روسی جنرل اسٹاف نے 27 اکتوبر سے آغاز کی تصدیق کی۔ کریملن کے ترجمان نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فوجی حلقے انسانی آپریشن کے درست وقت پر ابھی بات چیت کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اولیشکی فروری 2022 سے روسی قبضے میں ہے اور خاتون اول کے دفتر کے مطابق وہاں تقریباً 1,700 سے 2,000 رہائشی باقی ہیں۔ یوکرین کے سینئر مذاکرات کار نے کہا کہ یہ معاہدہ مستقل انسانی راہداریوں کے قیام اور مستقبل کی انسانی کارروائیوں کے لیے ایک نمونہ بن سکتا ہے۔

