پاکستان میں ذہنی صحت کا بحران

2711478 zahidahinanewnew 1727198890


ایک انگریزی معاصر میں ذہنی صحت سے متعلق شائع ہونے والی ایک رپورٹ میری نظر سے گزری تو میں نے محسوس کیا کہ اس موضوع پر لکھنا ضروری ہے۔ پاکستان کے پہلے قومی سطح کے ذہنی صحت کے سروے سے منسوب اعداد و شمار ہمارے سماج کی ایک ایسی حقیقت سامنے لاتے ہیں جسے نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 32 فیصد بالغ افراد کسی نہ کسی ذہنی عارضے کا شکار ہیں، 38 فیصد افراد زندگی میں کبھی ایسے مسائل کا سامنا کر چکے ہیں جب کہ چھ فیصد نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران خودکشی کے خیالات آنے کی اطلاع دی۔ یہ اعداد و شمار ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ہمارے سماج میں کیا ہو رہا ہے اور ہم اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

ذہنی صحت اب محض کسی فرد کا ذاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ خاندان، سماج اور ریاست کی مشترکہ ذمے داری بن چکی ہے۔ جسمانی بیماری کی صورت میں ہم علاج کی ضرورت تسلیم کر لیتے ہیں لیکن ذہنی پریشانی کا ذکر ہو تو اکثر ہمارا ردعمل مختلف ہوتا ہے۔ کسی کو افسردہ دیکھ کر کہا جاتا ہے کہ زیادہ نہ سوچو، خود کو مضبوط بناؤ یا زندگی میں سب کے ساتھ مسائل ہوتے ہیں، بظاہر یہ عام جملے ہیں لیکن بعض اوقات یہ کسی پریشان انسان کو مزید تنہا کر دیتے ہیں۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ڈپریشن سستی نہیں، اضطراب محض زیادہ سوچنے کا نام نہیں اور ماہر ِ نفسیات یا ماہر امراضِ نفسیات سے رجوع کرنا کمزوری کی علامت نہیں۔ ذہنی عوارض حقیقی طبی مسائل ہیں جن میں مناسب مدد اور علاج سے بہتری ممکن ہے۔

پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ان حالات پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے جن میں لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، سماجی عدم تحفظ، گھریلو تنازعات، تشدد، تنہائی اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی ذہنی دباؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

جب والدین اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں، ایک نوجوان تعلیم کے باوجود روزگار حاصل نہ کر پا رہا ہو یا ایک عورت مسلسل گھریلو اور سماجی دباؤ کا سامنا کر رہی ہو تو ان حالات کے جذباتی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یقینا ہر ذہنی عارضے کی وجہ معاشی مشکلات نہیں ہوتی۔

موروثی رجحانات، حیاتیاتی عوامل، زندگی کے تلخ تجربات اور دوسرے نفسیاتی و سماجی عوامل بھی ذہنی صحت پر اثرانداز ہوتے ہیں، تاہم مسلسل دباؤ اور عدم تحفظ کسی فرد کی مشکلات کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے ذہنی صحت پر گفتگو کرتے ہوئے صرف فرد کو اپنی حالت کا ذمے دار ٹھہرانا درست نہیں۔

ہمارے سماج میں ایک بڑا مسئلہ ذہنی بیماریوں سے وابستہ بدنامی اور شرمندگی بھی ہے۔ بہت سے لوگ اس خوف سے اپنی کیفیت بیان نہیں کرتے کہ انھیں پاگل سمجھا جائے گا یا ان کے خاندان کی عزت پر سوال اٹھیں گے۔

بعض والدین بچوں کی پریشانی کو ضد سمجھتے ہیں جب کہ بعض نوجوان اپنے جذبات اس لیے چھپا لیتے ہیں کہ انھیں یقین ہوتا ہے کہ ان کی بات سننے کے بجائے انھیں ڈانٹ پڑے گی۔ ہمیں خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تعلیم کیریئر اچھے نمبروں اور سماجی توقعات کا دباؤ بعض بچوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے۔ والدین کی ذمے داری صرف اچھی تعلیم اور بہتر سہولتیں فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کو ایسا ماحول دینا بھی ہے جہاں وہ ناکامی خوف اور پریشانی کے بارے میں بلا جھجک بات کر سکیں۔

ہر مسئلے کا حل نصیحت میں نہیں ہوتا بعض اوقات توجہ سے سننا ہی مدد کی پہلی صورت بن جاتا ہے۔اسی طرح خواتین اور بزرگوں کی ذہنی صحت بھی خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ گھریلو ذمے داریوں کا غیر مساوی بوجھ معاشی انحصار تشدد اور سماجی پابندیاں خواتین کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ دوسری طرف بزرگوں کے لیے تنہائی جسمانی کمزوری اور اپنوں سے دوری ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ ان مسائل کا حل صرف مالی سہولتوں میں نہیں بلکہ احترام جذباتی تعاون اور مضبوط خاندانی تعلقات میں پوشیدہ ہے۔

ذہنی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے انفرادی کوششوں کے ساتھ حکومتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ بنیادی مراکز صحت اور سرکاری اسپتالوں میں ذہنی صحت کی سہولتیں بہتر بنائی جائیں، تربیت یافتہ ماہرین کی تعداد بڑھائی جائے اور کم آمدنی والے افراد کے لیے علاج قابل رسائی بنایا جائے۔

تعلیمی اداروں میں مشاورت کی سہولتیں فراہم کی جائیں اساتذہ کو بچوں میں ذہنی پریشانی کی علامات پہچاننے کی تربیت دی جائے اور کام کی جگہوں پر ہراسانی غیر ضروری دباؤ اور تذلیل کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

ذرائع ابلاغ اور سماجی اداروں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ذہنی بیماریوں سے متعلق درست معلومات عام کی جائیں تاکہ لوگ علامات کو سمجھ سکیں اور ضرورت پڑنے پر بروقت مدد حاصل کریں۔

قومی سروے کے نتائج کو بھی محض تشویش ناک اعداد و شمار کے طور پر پیش کرنے کے بجائے پالیسی سازی علاج کی سہولتوں اور آیندہ تحقیق کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان اعداد و شمار کی درست تشریح اور سروے کے طریقہ کار کو سمجھنا بھی ضروری ہے تاکہ مسئلے کی سنگینی کو نہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے اور نہ کم کرکے دکھایا جائے۔

میرا خیال ہے کہ ذہنی صحت کے بحران کا ایک اہم پہلو ہماری کامیابی اور مضبوطی سے متعلق سوچ بھی ہے۔ ہم نے کامیابی کو دولت عہدے نمبروں اور سماجی حیثیت سے جوڑ دیا ہے مگر یہ کم ہی پوچھتے ہیں کہ اس دوڑ میں انسان کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کیا ہے۔

مردوں کو اکثر اپنے جذبات چھپانے اور ہر حال میں مضبوط دکھائی دینے کا درس دیا جاتا ہے جب کہ خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ضروریات کو دوسروں کی خاطر نظرانداز کرتی رہیں۔ ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کیونکہ جذبات کا اظہار کمزوری نہیں بلکہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ہر ذہنی پریشانی کو خود ہی کوئی بیماری قرار نہ دیں اور نہ ہی ہر مسئلے کے لیے غیر پیشہ ورانہ مشوروں پر انحصار کریں، اگر کسی شخص کے مزاج نیند روزمرہ معمولات یا رویے میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہو اور اس کی زندگی متاثر ہو رہی ہو تو اسے مستند ماہر سے رجوع کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ خاص طور پر خودکشی کے خیالات کو معمولی سمجھنے کے بجائے فوری توجہ اور مناسب پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

ایک صحت مند سماج کی پہچان صرف اس کی معاشی ترقی یا بلند عمارتیں نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے افراد کس قدر محفوظ باعزت اور مطمئن زندگی گزار سکتے ہیں۔ ذہنی صحت کی حفاظت کا آغاز گھر میں ایک دوسرے کی بات سننے تنقید کے بجائے سمجھنے اور ضرورت کے وقت مدد فراہم کرنے سے ہوتا ہے لیکن اس ذمے داری کو خاندان تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔

ریاست تعلیمی اداروں ذرائع ابلاغ اور سماج کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر مسکراتا ہوا چہرہ اندرونی سکون کی علامت نہیں ہوتا اور ہر خاموش انسان بے فکر نہیں ہوتا۔ بعض لوگ ایسی مشکلات سے گزر رہے ہوتے ہیں جن کا اندازہ ان کے آس پاس موجود افراد کو بھی نہیں ہوتا۔ ایسے میں ہمارا رویہ ان کے لیے سہارا بھی بن سکتا ہے اور ان کی تنہائی میں اضافہ بھی کر سکتا ہے۔

ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنا مدد مانگنے کو معمول بنانا اور علاج کی سہولتیں عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خاموشی ہمیشہ سکون کی علامت نہیں ہوتی ،کبھی کبھی یہ مدد کی ایک ایسی پکار ہوتی ہے جسے سننے کے لیے ہمیں اپنے تعصبات اور رویے بدلنے پڑتے ہیں۔ ایک بہتر سماج کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب ہم جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی اور جذباتی صحت کو بھی یکساں اہمیت دیں۔
 





Source link

متعلقہ پوسٹ