ہمارے خیال میں اس وقت جو صورت حال ہماری اس پیاری مملکت میں چل رہی ہے، اسے ’’ لڑائی مغلوبہ‘‘ کا نام دیا جاسکتا ہے ۔ لڑائی مغلوبہ کی اصطلاح اس لڑائی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جسے گھمسان بلکہ ’’گھاماسان‘‘ کی لڑائی کہتے ہیں۔
یہ اس وقت برپا ہوتی ہے جب صفیں ٹوٹ جاتی ہیں، قاعدے قانون ختم ہوجاتے ہیں اور گتھم گتھا یا دوبدوکی حالت ہو جاتی ہے، اپنے پرائے کی تمیز باقی نہیں رہتی اور نفسی نفسی کا عالم طاری ہوجاتا ہے، رحم اور ترس تو کیا، انسان بھی نہیں رہتا، صرف مارا ماری ہوتی ہے اورچیخ وپکار سنائی دیتی ہے۔
اونچی سطح اور شاہی میدانوں میں جو اقتدار کی لڑائی مغلوبہ چل رہی ہے اور بڑے زوروںسے چل رہی ہے، اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے لوگوں میں۔ ہمارا تعلق تو شیرازی کے قبیلے سے ہے، گدائے گوشہ نشین ہیں اور گدائے گوشہ نشیوں کو ’’مہ فروش‘‘ ہی رہنا چاہیے اور خسرواں کے معاملات میں اپنی ناک گھسانے سے احتراز کرناچاہیے:
امور مصلحت ملک خسروان دانند
گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروس
لیکن ہائی فائی سطح کے نیچے جو لڑائی مغلوبہ ملک کے چپے چپے پر چل رہی ہے، اس سے ہمیں غرض ہے کیوں کہ ہم اسی لڑائی کے متاثرین بلکہ مجروحین بلکہ گھائلین ہیں ۔ ویسے اتنا کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اونچے میدانوں میں بھی یہ لڑائی ملغوبہ کوئی نئی بات نہیں ہے، جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے تب سے اب تک یہ لڑائی بپا تھی اورہے۔
ہمیشہ کی طرح ابتدائے آفرنیش سے اشرافیہ… اپنی جدی پشتی دشمن عوامیہ پر چڑھ دوڑی ہوئی تھی اورہے، کشتوں کے پشتے لگا رہی تھی لیکن ب بدقسمتی سے یہ لڑائی مغلوبہ اونچے ایوانوں سے نکل کر گلیوں کوچوں میں بھی پھیل چکی ہے۔ کوئی ایسا فرد، ایسا گروہ، ایسا طبقہ اور ایسا پیشہ نہیں بچا ہے جو کسی اور فرد گروہ، طبقے اور پیشے سے برسرپیکار نہ ہو۔
مشکل ہے کہ اب شہرمیں نکلے کوئی گھر سے
’’دستار‘‘ پہ بات آگئی ہوتی ہوئی سر سے
خود اپنے سے ملنے کا بھی یارا نہیں مجھ میں
میں بھیڑ میں گم ہوگیا تنہائی کے ڈر سے
دیکھاجائے تو ہرکوئی کسی سے بھڑا ہوا ہے، دکاندار خریدار سے، مالک مزدورسے، سرکار عوام سے، افسر ماتحت سے برسر پیکار ہے، ایک دوسرے پر وار کیے جارہے ہیں، ایک دوسرے کو تو ڑ رہے ہیں، مروڑ رہے ہیں، نچوڑ رہے ہیں، ککوڑ رے ہیں، جہاں جس کا بس چلتا ہے دوسرے کو مارنے، نیچے گرانے اورکچومر نکالنے میں مصروف ہے، ایسا لگتا جیسے سارے لوگ ایک قطار میں کھڑے ہوں اور ہر شخص اپنے سے آگے کھڑے ہونے والے کو چھرا گھونپ رہا ہے، اس طرح سب کے سب شکار بھی تھے اور شکاری بھی۔
بچا ہوا کوئی نہ تھا اورہم جسے خوش فہم، غلط فہم اور کم فہم اب بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ بیانات دینے والوں کے بیانات کے مطابق، ہم فردوس گم گشتہ میں بس پہنچنے والے ہیں حالانکہ
دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں
اتنا رویا ہوں کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں
ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ عوام نام کا ایک جدی پشتی بندہ کسی آدم خور جنگلی قبیلے میں پھنس گیا ہو، آدم خور قبیلے نے اسے زنجیروں سے باندھ رکھا ہو، ڈھول بج رہے ہوں، آدم خور عجیب وغریب آوازیں نکال کراس کے گرد ناچ رہے ہوں، ہرایک ہاتھ میں خنجر ہے اور وہ ناچتے ناچتے اس پر جھپٹ رہا ہو، اس کے جسم سے بوٹی کاٹ کر چبا رہا ہو، کوئی اس سے بہنے والا خون چلو بھربھر کر منہ میں ڈال رہا ہو، اپنے چہرے پر مل رہا ہو۔
فریڈرک اینگلر نے اپنی مشہور کتاب ’’خاندان، ریاست اور ملکیت‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک بستی کے لوگوں کو قریبی جنگل کے وحشیوں سے یہ خطرہ لاحق تھا کہ وحشی بستی کو لوٹ لیتے تھے، آخر تنگ آکر بستی والے ان وحشیوں کے ہاں پناہ لینے لگے۔ لیکن ہم کہاں بھاگیں اورکس کی پناہ لیں کہ آس پاس کوئی جنگل بھی نہیں ہے کیونکہ جنگل بھی شہر بن گئے ہیں درندوں سمیت۔
آپ تو پڑھے لکھے ہیں، دانا دانشور ہیں، روزانہ اخبارات میں، چینلات میں، بیانات میں لمبے لمبے کالمات اور مکالمات، خوش خبریاں سنتے ہیں، سناتے بھی ہیں، آپ ہی بتائیں کہ ’’پس چہ بائد کرد‘‘ لیکن آپ اس کا اُپائے کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں کہ آپ تو پانی کی سطح پر ہیں اور پانی کی سطح اوپر سے ہمیشہ ہموار نظر آتی ہے اور پانی کے اوپر سے ہموار دیکھنے والوں کو کیا پتہ کہ سطح کے نیچے کیا ہے، یا کیا ہو رہا ہے، کنتی گندی، کیچڑ ہے، پتھر ہیں، ناہمواریاں ہیں، بڑی مچھلیاں کیا کررہی ہیں اورچھوٹی مچھلیوں کا حشرنشر ہو رہا ہے، مگھرمچھ کتنے موٹے ہو رہے ہیں اور پانی کتنا گندہ ہو رہاہے۔ اندھیری رات ہے، لہرں کاڈر ہے اورگرداب سامنے آرہے ہیں، وہ ہمارا حال کیا جانتے ہیں جو آرام سے ساحل پر کھڑے ہیں۔
وہ ایک منحوس لکیر جو درمیان میں ہے، اس سے نیچے کوئی دیکھے تو پتہ چلے کہ اب وہ لکیر۔ لکیر نہیں رہی ہے بلکہ شہتیر بن چکی ہے۔ اس شہتیر کے اوپر جو بیٹھے ہیں وہ زوربروز موٹے اور موٹے اور موٹے ہوتے جارہے ہیں اور جن بدنصیبوں کے گندھوں پر یہ شہتیر دھری ہوئی ہے، وہ مسلسل دب رہے ہیں اور زمین میں دھنس رہے ہیں۔
یہی بہت ہے کہ تم دیکھتے ہو ساحل سے
سفینہ ڈوب رہا ہے تو کوئی بات نہیں
جب قافلہ چلا تھا تو بتایا گیا تھا کہ تم بہت جلد ایک سرسبز و شاداب باغ میں پہنچنے والے ہو جہاں دودھ وشہد کی نہریں ہوں گی، شجردار وسایہ دار درخت ہوں گے لیکن پہنچ گئے تو پتہ چلا کہ واقعی وہ باغ تو ہے لیکن اس پر ظالموں کا قبضہ ہو چکا ہے اور پہنچنے والے ان کے غلام بن چکے ہیں اور لڑائی مغلوبہ میں مبتلا ہو چکے ہیں، دودھ اور شہد کی نہروں کی جگہ نفرت کی نہریں بہہ رہی ہیں۔

