قائد اعظم جذبات کے بجائے حقائق کو اہمیت دیتے تھے، اسی لئے تحریک خلافت سے الگ رہے

150yearofquaidazam1792944765 0


قسط نمبر۔2

 انگریزوں کی آمد کے وقت مغربی دنیا صنعتی، اقتصادی ، سماجی اورسیاسی اعتبار سے تبدیل ہو چکی تھی۔ برطانیہ نے ہندوستان میں بھی اپنی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے تیز رفتار تبدیلیاں کیں۔ مثلاً بر طانیہ میں جارج اسٹیفن سن نے 1825 ء میں پہلی بار اسٹیم انجن سے ٹرین چلا کر دنیا میں نقل و حمل کو تیز رفتار کر دیا تھا۔

اس کے27 سال بعد ہندو ستان میں پہلے ممبئی اور پھر 1853 ء کراچی سے کوٹری تک ریلوے لائن بچھا کر ریلوے کا آغاز کر دیا گیا۔ آئندہ چند دہائیوں میں پورے ہندوستان میں ریلوے لائنوں کا جال بچھا دیا گیا ، ہندوستان میں بنکنگ ، اسٹاک ایکسچینج سمیت دیگر شعبوں میں جدید نوعیت کی تبدیلیاں ہوویں ۔ انگریز نے اپنے اقتدارکو انڈیا میں صدیوں سے قائم جاگیردارانہ نظام کی بنیاد پر قابو میں رکھا۔

ان ریاستوں کی تعداد 1947 ء تک 562 تھی۔ ایسٹ انڈیا کی کمپنی سے اقتدار کی منتقلی بر طانوی بادشاہت کو 1857 ء کی جنگ ِ آزادی کے ساتھ ہی ہو گئی تھی۔ کمپنی کی حکومت کے وقت بھی انتظامی لحاظ سے ڈھانچہ ترتیب دیا جا چکا تھا آج کی طرز کی بیوروکریسی ہندوستان میں آچکی تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں 1800 ء میں کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج قائم کر دیا گیا تھا جس میں بنیاد ی نوعیت کا کام اردو ، فارسی اور انگریزی تراجم کا تھا۔ انگریز سرکار کا پہلے یہ خیال تھا کہ وہ یہاں اپنی حکومتی امور چلانے کے لیے ہندوستان میں رابطے کی بڑی زبان اردو کو اپنایس جائے۔

فورٹ ولیم کالج کا ابتدائی نوعیت کا کام بھی اسی لحاظ سے تھا ، مگر ہندوں نے اس کی شدید مخالفت کی تو انگریزوں نے یہاں انگریزی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کر دیا۔ سر سید احمد خان نے اسی بنیاد پر یہ سو چ لیا تھا کہ بر صغیر کے مسلمانوں کو اپنی بقا اور شناخت کے لیے اب بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کر نا ہوں گے۔ یہی وجہ تھی کہ جب 1885 ء میں ہندوستان میں کانگریس پارٹی قائم ہو ئی تو سر سید نے مسلمانوں کو اس میں شمولیت سے منع کیا تھا ۔ ایک جانب انگریز کے ساتھ ہندوستان کے 562 ریاستوں کے حکمران تھے دوسری جانب تقریباً 70 فیصد آبادی یعنی ہندو اکثریت انگریز کے ساتھ تھی جو پہلے مسلمان بادشاہت میں رعایا تھی۔

اس لیے ہندوں کو کو ئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ اب مسلمانوں کی بجائے اُن کے حاکم انگریز تھے ، اب مسئلہ یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمان 1857 ء کی جنگ ِ آزادی کے بعد انتہائی زوال کا شکار تھے وہ غم و غصے میں مبتلا تھے۔ انگر یز اور انگریزی زبان سے اُن کو نفرت تھی ،ہند و اکثریت اس کا فائد اٹھا رہی تھی جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ 1877 ء میں ہندو گریجویٹ 6408 تھے اس کے مقابلے میں مسلمان گریجویٹ صرف 216 تھے اور اِ نکی اکثریت بھی انگریز کے وفادار نوابین کی اولادوں کی تھی۔ اِن ہی کے لیے لاہور کا ایچ ای سن کالج قائم کیا گیا تھا۔

اسی طرز پر اجمیر اور کاٹھیا واڑ میں بھی ہندوستان کے جاگیرداروں کی اولادوں کے لیے تعلیمی ادارے قائم کئے گئے تھے جب کہ ہندوستان کے علاقے ڈیرہ دون میں اعلیٰ طبقے ایلیٹ کلاس کے لیے راشٹریہ انڈین ملٹری کالج قائم کیا تھا جس کا افتتاح 13 مارچ 1922 ء کو بر طانیہ کے ولی عہد پرنس ایڈورڈ ہشتم ( پرنس آف ویلز ) نے کیا تھا۔ سر سید کا کمال یہ تھا کہ اُنہوں نے ہندوستان کے عام اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے علی گڑھ کالج قائم کیا تھا۔

1898ء میں جب سر سید احمد خان کی وفات ہو ئی تو قائدا عظم کی عمر 22 سال تھی۔ اس کے چھ برس بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی عملی سیا سی زندگی کا آغاز کیا۔ اُنہوں نے دسمبر 1904 ء میں بمبئی میں انڈین نیشنل کانگریس کے 20 ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ ، دسمبر1906 ء میں کلکتہ میں ہو نے والے کانگریس کے اجلاس میں قائد نے اپنی پہلی سیاسی تقریر بھی کی۔ واضح رہے کہ تنسخ بنگال 1905 ء کے بعد 1906 ء میں ڈھاکہ میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آگیا تھا۔ مگر قائد اعظم اُس وقت ہندو مسلم اتحاد اور مشترکہ ہندوستان پر کامل یقین رکھتے تھے یہی صورت اُس وقت شاعر مشرق علامہ اقبال کی بھی تھی۔ اس کے بعد قائد اعظم 1910 ء میں امپیریل لیجسلیٹیو کونسل ( مجلس قانون ساز) کے رکن منتخب ہو ئے۔ 1913 ء میں محمد علی جناح نے مسلم لیگ میں بھی شمولیت اختیار کرلی۔

یہ وہ دور تھا جب عالمی سطح پر ایک جانب نو آبادیاتی نظام اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا اور اِس کے بعد اب زوال شروع ہو نے والا تھا۔ انقلاب ِ فرانس اورامریکی خانہ جنگی کے اثرات خصوصاً یورپ پر مرتب ہو رہے تھ۔ اسی دور میں کارل مارکس کے اشتراکی نظریات روس اور مشرقی یورپ میں مقبول ہو چکے تھے۔ خلافتِ عثمانیہ (ترکیہ) 1520 ء سے 1683 ء تک ایک وسیع سلطنت تھی۔ یہ سلطنت یورپ ، ایشیا ، اور افریقہ پر محیط تھی۔ اس میں آج کے 30 سے زیادہ ممالک شامل تھے۔ یورپ میں یونان ، بلغاریہ ، ہنگری ، رومانیہ ، سربیا، البانیہ ، بوسینیا ، قبرض ، یوکرائن اور روس اور آسٹریا کے کچھ علاقے شامل تھے ، افریقہ میں مصر ، لیبیا ، تیونس ، اور الجزائر کے ساحلی علاقے ، ایشیا میں ترکی ،شام ، عراق، اردن فلسطین ، لبنان ، سعودی عرب ،،حجاز،، یمن ، قفقاز، ( آرمینیا ، جارجیا) شامل تھے۔

یہ سلطنت بعد میں سُکڑ گئی۔ کئی علاقے ہاتھ سے نکل گئے۔ 1914 ء میں جنگ عظیم اوّل سے قبل بھی خلافتِ عثمانیہ کے پاس مشرق وسطعٰی میںشام ، عراق ، لبنان ،فلسطین ، اردن ،حجاز مقدس جزیرہ نما عرب یورپ میں بلقان کے کچھ موجود تھے۔ محمد علی جناح کو سیاست کے میدان میں قدم رکھے چھ سال ہو ئے تھے اور اُن کی عمر 38 سال تھی جب دنیا میں پہلی عالمی جنگ شروع ہو ئی۔ جنگ عظیم اوّل 1914 ء سے 1918 ء تک چار سال جا ری رہی۔ مگر اس نے پوری دنیا کو تبدیل کر دیا۔ اس دوران قائد اعظم نے سیاست میں نمایاں کردارادا کیا۔ وہ 1916 ء گانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے رکن تھے۔

جب مسلم لیگ اور کانگریس دونوں کے اجلاس لکھنو میں منعقد ہو ئے اور پھر دونوں جماعتوں کے درمیان مشترکہ ہندوستان کے مفاد میں میثاق لکھنو کے نام سے ایک معاہد ہ ہوا،اُس وقت پہلی جنگِ عظیم جاری تھی۔ جنگ میں ایک جانب جرمنی کی بادشاہت اور خلافت ِ عثمانیہ کے ہمراہ آسٹریا ہنگری ، بلغاریہ شامل تھے اس اتحاد کو ،، مرکزی طاقتیں کہا جاتا ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے اتحادیوں میں برطانیہ ،فرانس کے علاوہ اٹلی تھا، جو 1915 میں اتحاد میں شامل ہوا ،روس 1917 تک شامل رہا اور امریکہ 1917 میں اتحادی طاقت میںشامل ہوا۔ ایشیا اور بحرا لکاہل کے علاقے میں جاپان نے اتحادیوں کا ساتھ دیا۔ اسی طرح دیگر چھو ٹے ملکوں میں بلجیم ،سربیا، اور یونان جیسے ممالک برطانوی اتحاد میں شامل تھے۔

یوں جب قائداعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے درمیان میثاق لکھنو کروانے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا اُس وقت کسی کو یہ انداز نہیں تھا کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی ؟جنگ میں مرکزی طاقتیں کامیاب ہو نگی یا بر طانیہ ، فرانس کی اتحادی قوتیں فتح یاب ہو نگی۔ میثاق لکھنو میںقائد اعظم نے برٹش انڈیا میں مسلم شناخت اور حصہ دار ی میں آبادی کے تناسب یعنی 30 فیصد کی بنیاد پر تقریباً وہی نکات رکھے تھے، جو سر سیدخان چا ہتے تھے اور جنکی بنیاد پر سر سید احمد خان نے برصغیر کے مسلمانوں کو گانگریس میں شامل ہو نے سے منع کیا تھا۔ میثاق لکھنو میں قائداعظم نے ہندوستان میں مسلم شناخت کے لیے بنیاد طور پر کانگریس کو اِ س بات پر آمادہ کر لیا تھا کہ Marjority is Authorityکی بنیاد پر بر طانوی طرز کی جمہوریت برصغیر میں کامیاب نہیںہوسکتی، برطانیہ میں یہ اِ س لیے کامیاب ہے کہ وہاں نسلی، قومی، لیسانی ، ثقافتی اور مذہبی کی بنیاد پر نوے فیصد سے زیادہ آبادی اجتماعی طور پر ایک ہے۔

بر طانیہ کی آبادی بھی ہندوستان کے مقابلے بہت کم ہے، مگر ہندوستان کی آبادی جو اُس وقت تیس کروڑ سے زیادہ ہے اس آبادی میں نو کروڑ مسلمان اور باقی غیر مسلم ہیں جن میں95% ہندو ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ کچھ علاقوں صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، جن کی اپنی شناخت ہے اِس کی ثقافت ،تہذیب ، تمدن پر ہندوستان کے وہ اثرات بھی ہیں جن سے اِن کا بنیادی ایمان متاثر نہیںہو تا۔اس کے لیے قائداعظم جو آئین کے ماہر بھی تھے اُنہوں نے یہ فارمولہ دیا کہ جہاں بھی جمہوری بنیادوں پر ووٹینگ ہو گی وہاں مسلمان اور غیر مسلم ہندو بنیاد پر مسلم آبادی کے تناسب سے ووٹینگ ہو، جو قومی یا قومی سطح پر ہندوستان 30 فیصد تھی یعنی جب قومی یا مرکزی سطح پر انتخابات ہوں تو تیس فیصد مسلم نشستوں پر صرف مسلما ن امیدوار ہی کھڑے ہو ں ہاں یہ ضرور ہے کہ اُن تیس فیصد مسلم نشستوں پر کانگریس بھی اپنے مسلم امیداوار کھڑے کرسکتی ہے اسی طرح مسلم لیگ بھی70 فیصد ہندویا غیر مسلم نشستوں پر اپنے ہند و امید وار کھڑے کر سکتی ہے قائداعظم نے اس کے علاوہ ہندوستان میں مسلم شناخت کے لیے ایک بنیادی اور اہم نکتہ یہ رکھا کہ جب اسمبلی میں ہندوستان کے لیے آئین کی تشکیل ہو یا قانون سازی کا مر حلہ ہو تو ایسے قوانین جن سے کسی فریق کے مذہب پر اثرنہ پڑتا ہو اُس کے لیے اسمبلی ممبران مشترکہ ووٹینگ کی بنیاد پر قوانین کو منظور یا رد کر یں لیکن اگر مسلمانوں کی زندگی ،شادی بیاد ،وراثت اور دیگر مذہبی امور سے متعلق قوانین کی بات ہو تو اسمبلی میں جو مسلم تیس فیصد اراکین ہیں اُن کی دو تہائی اکثریت ہی سے قانون منظور ہوں ، اسی طرح سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے لیے 30 فیصد آبادی کے تناسب سے کوٹہ مقرر کیا جا ئے ، قائد اعظم نے یہ فارمولہ اتنے مدلل انداز سے پیش کیا کہ کانگریس نے اس کو تسلیم کر لیا اور میثاق لکھنو کانگریس اور مسلم لیگ نے مشترکہ طور پر تسلیم کر لیا اس کی بنیاد پر پورے ہندوستان میں قائداعظم کو ہندو مسلم اتحادکا سفیر تسلیم کیا گیا ۔

جنگ عظیم اوّل کے دوران برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ان کے نوآبادیاتی ممالک بھی شامل تھے۔ 1920 ء کی دہائی میں برطانیہ کی نو آبادیات میں دنیا کے کل رقبے کا 24 فیصد اور آبادی کا 25 فیصد شامل تھا اور اسی طرح فرانس کی نو آبادیات بھی دنیا کے 10.7 فیصد رقبے اور 5 فیصد آبادی پر مشتمل تھی۔ برٹش انڈیا سے تقریباً 15 لاکھ فوجیوں نے جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ اور جرمنی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا اس فوج میں بھرتی کے لیے ہندوستان کے نوابیں ، راجاؤں مہا راجاؤں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اِن نوابین ، راجاؤں نے 1917 ء میں 100,000,000 پونڈ کی مالی مدد بھی کی۔ یہاں تک کہ حجاز مقدس میں بھی ترکوں کے خلاف برٹش انڈیا کی فوج نے جنگ میں حصہ لیا تھا ، جب جنگ جاری تھی تو ہندوستان کے نو کروڑ مسلمان جذباتی طور پر خلافت ِ عثمانیہ حق میں تھے دوران ِجنگ جہاں جاگیردار وں یعنی نوابیں راجاؤں نے کروڑ وں روپے سے تاج بر طانیہ کی مدد تھی وہاں ہندوستان کے مسلم عوام نے اُس زمانے میں لاکھوں کروڑں روپے چندہ کر کے ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کی امدادکی۔ مسلم خواتین اپنے سونے نے ازیوارات تک چندے میں دے دئیے تھے۔

اس جنگ میں ایک اہم ترین کردار کرنل لارڈ لارنس کا تھا جس پر ہالی ووڈ نے ساٹھ کی دہا ئی میں لارنس آف عریبہ کے نام سے فلم بھی بنائی تھی۔ یہ برطانوی ایجنٹ بہت ذہین اور اعلیٰ صلاحتیوں کا مالک تھا۔ وہ قرآن سمیت زبو ر، توریت ، انجیل کابھی حافظ تھ۔ عربی ، پشتو سمیت بہت سی زبانیں مادری زبان کی طرح بولتا تھا۔ جنگ کے دوران یہ ایجنٹ حجاز مقدس آیا یہاں کے پرانے شاہی خاندان کے افراد شیوخ ، امرا اور قبائلی سرداروں سے ملاقاتیں کیں جو پہلے ہی ترکوں کے خلاف تھے۔ لارڈ لارنس نے اِن عربوں کو مزید ابھارا کہ تم عرب ہو مگر تم پر غیر عرب ترک حکمران ہیں ، پھر لارڈ لارنس نے برٹش حکومت سے ہزاروں پونڈ سونا لے کر یہاں عرب شاہی خاندان کے افراد ، امرا،اور شیوخ میں تقسیم کیا۔ ترکوں کے خلاف لڑنے کے لیے بڑی تعداد اور مقدار میں جدید ہتھیار گولہ باروفراہم کیا۔ کرنل لارنس نے اِن عربوں کو منظم کرکے حجاز ریلوے لائن کو تباہ کیا جو مدینہ سے ترکی تک جاتی تھی۔

ٹرین کے ذریعے ترک فوج اور فوجی ساز وسامان کی ترسیل ہوتی تھی یوں جنگ عظیم اوّل میں ایک جانب عرب امرا ، شیوخ اور قبائلی سرداراپنے تمام لوگوں کے ہمراہ انگریز کے حق اور ترکیہ کی خلافت کے خلاف تھے، دوسری جانب ہندوستان کی ساڑھے پانچ سو سے زیاد ریا ستوں کے نوابین اور راجے جنگ ِعظیم اوّل میں انگریز سرکار کے حق میں اور خلافت عثمانیہ کے خلاف تھے۔ انگریز یہ جانتا تھا کہ انڈیا کی آبادی میں تقریباً 9 کروڑ مسلمان جذباتی طور پر خلافت عثمانیہ کے ساتھ ہیں اس لیے انگریز نے یہاں مسلمان رہنماؤں سے یہ وعدہ کیا کہ جنگ جیت جانے کی صورت میں انگریز خلافت عثمانیہ کو قائم رکھے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ 1918ء میں جنگ ِ عظیم ختم ہو گئی جرمنی اور سلطنت عثمانیہ کو شکست ہو گئی۔ 1919 ء میں فرانس ( پیرس) کے مشہور محل وارسائی میں معاہد ہ ہوا۔ اس کے بعد ہی خلافت ِ عثمانیہ بھی ختم کردی گئی۔ عرب ملکوں اور ریاستوں کو فرانس اور برطانیہ نے آپس میں بانٹ لیا، اس کے ردعمل میں ہندوستان میں 1919 ء سے تحریک خلافت شروع ہو ئی اس تحریک کا بنیادی مقصد ترکیہ کی شکست اور زوال کے بعد عثمانی خلافت کا تحفظ تھا۔ مسلمانوں کا موقف تھا کہ انگریزنے وعدہ خلافی کی ہے۔ تحریک ِ خلافت 1919 ء سے1924 ء تک جا رہی رہی۔ 5 جولائی 1919 ء کو خلافت کمیٹی قائم ہوئی جس کے صدر سیٹھ چھوٹانی اور سیکرٹری حاجی صدیق کھتری منتخب ہو ئے۔ دسمبر 1919 ء کو آل انڈیا کانگریس ، آل انڈیا مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے اجلاس امرتسر میں منقعد ہو ئے جہاں گاندی جی نے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا۔ واضح رہے کہ مارچ 1919 ء میں برٹش انڈیا میں انگریز سر کار نے (Rowlatt Act ) رولٹ ایکٹ جیسا کالا قانون نافذکر دیا تھا۔ اس قانون کے تحت انگریز سرکار کو اختیار حاصل ہو گیا تھا کہ وہ کسی ہندوستانی کو عدالت کے مقدمہ کے بغیر گرفتار کرسکتی تھی۔ اس کے خلاف انڈیا میں احتجاج شروع ہو ا۔ امرتسر میں دو رہنماؤں ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور ستیا پال کو گرفتار کر کے جلا وطن کر دیا گیا۔ بیساکھی 13 اپر یل کا دن تھا جب عوام نے اپنے گرفتار لیڈر و ں کی گر فتاری اور رولٹ ایکٹ کے خلاف امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں ایک پُر امن جلسہ منعقد کیا۔ جہاں برطانوی فوج کے جنرل ڈائر کے حکم پر ہزاروں کے نہتے ہجوم کو گھیرے میں لے کراندھا دھند فائرنگ کی گئی، سینکڑوں بے گنا ہ افراد کو شہید کر دیا گیا ۔

سانحہ جلیانوالہ باغ کے بعد علاقے میں ایک اور بڑا واقعہ تیسری اینگلو افغا ن جنگ کی صورت میں رونما ہوا۔ واضح رہے کہ دوسری اینگلو ا فغان جنگ 1878 ء سے 1919 ء کے بعد ایک معاہد ے کے تحت افغانستان کی حکومت نے بر ٹش انڈیا سے سالا نہ سبسیڈی کے طور پر ایک بڑی رقم کے عوض اپنی خارجہ پالیسی اور دفاعی امور انگریز سرکار کے سپر د کر دئے تھے باقی معاملات میں افغا نستان کی حکومت آزاد تھی۔ عالمی سطح پر افغانستان ایک آزاد تسلیم شدہ ملک تھا۔ 1879 ء میں انگریزوں نے دوسری اینگلو افغان جنگ کے بعد امیر عبدالرحمان سے گڈ میک معاہدہ کیا تھا۔ 1910 ء میں عبدالرحمن کا انتقال ہوا اس کے بعد امیر حبیب اللہ خان افغانستان کا باد شاہ بنا۔ اُس نے بھی اپنے باپ کی طرح گڈ میک معاہدے کی پاسدری کی۔ اپنی خارجہ پالیسی کو برطانیہ کے مفاد میں رکھا۔ حالانکہ کہ جنگ عظیم اوّل کے دوران ہندوستان سے ترکیہ کی سلطنت عثمانیہ کی مدد کے لیے ہزاروں افراد جنگ میں اتحادیوں کے خلاف اور خلافت عثمانیہ کے حق میں جہاد کر نا چاہتے تھے مگر حبیب اللہ خان نے اِن کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور افغانستان کو غیر جاندار رکھا۔

1917 ء میں جنگ کے دوران روس میں لینن اور اسٹالن کیمونسٹ انقلا ب لے آئے تو بھی حبیب اللہ خان نے ملک کو غیر جاندار ہی رکھا۔ جب جنگ ختم ہو ئی تو امیر حبیب اللہ خان کو امید تھی کہ اب اُس کی پزیرائی ہو گی۔ حبیب اللہ خان نے انتظار کے بعد خود ہی وائسرائے ہند فیڈرک دی سنگر کو درخوست دی کہ 1919 ء میں فرانس میں ہو نیوالی ورسلز امن کانفرنس میں افغانستان کی خود مختار خارجہ پالیسی کو تسلیم کر تے ہو ئے ایک آزاد و خو دمختار ملک کی حیثیت سے نشست دی جائے مگر وائسراے ہند نے اُس کی درخواست رد کردی۔ بعد میں اس درخواست پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی مگر اسی دوران امیر علی کو افغانستان میں پُراسرار طور پر قتل کر دیا گیا۔ قتل کے بعد امیر حبیب اللہ خان کے بیٹوں میں اقتدار کی کشمکش کے بعد عوام میں مقبولیت رکھنے والے تیسرے بیٹے امان اللہ خان کو افغانستان کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ امان اللہ خان روشن خیال تعلیم یافتہ تھاجو افغانستان کی مکمل آزادی کا علمبردار تھا۔

امان اللہ خان نے حالات کو افغانستان اور ہندوستان کی آزادی کے حق میں محسوس کیا۔ 13 اپریل کو امرتسر کے جیا نوالہ باغ کی وجہ سے ہندوستان کے طول و عرض میں 23 کروڑ عوام میں انگریز کے خلاف فوری غم و غصہ تھا۔ تحریک خلافت بھی شروع تھی۔ اِن حالات میں امیر امان اللہ خان نے افغانستان کی مکمل آزادی کو اعلان کردیا۔ سابق معاہدے کو یک طرفہ طور پر منسوخ کردیا۔ انگریز وں نے جلیانوالہ باغ کے سانحہ کے صرف 23 دن بعد 6 مئی 1919 ء کو افغانستان پر حملہ کردیا۔ تیسری اینگلو افغان جنگ 6 مئی سے 8 اگست تک جاری رہی جس میں پہلی مرتبہ انگریزوں نے کابل پر طیاروں سے بمباری کی۔ جنگ کے اختتام پر جزوی طور پر افغانستان کو فتح ہو ئی مگر غازی امان اللہ خان کا جو مقصد تھا وہ پورا نہ ہو سکا۔ یعنی ہندوستان میں اس موقع پر نہ تو تحریک خلافت نے کو ئی زبردست مزاحمت کی اور نہ ہی کانگریس یا مسلم لیگ کی جانب سے اس موقع سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کی گئی۔ تیسری اینگلو افغان جنگ کے بعد تحریک خلافت جاری رہی۔

 1920 ء میںمولانا محمد علی جو ہر کی قیادت میں ایک وفد برطانیہ ، اٹلی اور فرانس کے دورے پر روانہ ہوا تاکہ بر طانیہ کے وزیر اعظم اور اتحادیوں کی لیڈرشپ کو اُن کے وعدے یا ددلائے لیکن وہ یہ بھول گئے کہ معاہدہ وارسائی میں شکست خوردہ جرمنی کے خلافت جو ذلت آمیز انداز اختیارکیا گیا تھا اس کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کو اِن سے کسی خیر کی تواقع نہیں رکھنی چاہیے تھی اور یہی ہوا کہ یہ وفد بہت مایوس ہو کر واپس آیا۔ اس کے بعد تحریک خلافت کی جانب سے ترکی کے لیے ہندوستان سے ڈاکٹر ادویات اور سب سے اہم عوامی چند ے کی بنیاد پر بڑی بڑی رقوم بھیجی گئیں پھر تحریک خلافت کے تحت ہندوستان کے طول و عرض میں عوام کو منظم کر کے بڑے بڑے جلسے ، جلوس ہوئے۔ انگریز سر کار پر دبا ؤ ڈالنے کے لیے ہڑتالیں کی گئیں۔ انگریز وں نے لیڈروں کا ر کنوں کو گرفتارکیا مگر تحریک جو ش و جذبے سے جاری رہی۔ 1920 میں برطانیہ اور فرانس سے واپسی کے بعد ذلت آمیز شرائط پر مبنی ذلت آمیز معاہدہ سیورے سامنے آیا ( Treaty of Sevres )معاہدہ سیورے جنگ عظم اوّل کے بعد 10 اگست1920 ء سلطنت ِ عثمانیہ اور اتحادی قوتوں کے درمیان فرانس کے شہر سیورے میں طے پایا تھا جس کو امن معاہدے کا نام دیا گیا تھا۔

فریقین میں فاتح اتحاد ی ممالک بر طانیہ ، فرانس اور اٹلی وغیرہ شامل تھے دوسری طرف شکست خوردہ سلطنت ِ عثمانیہ تھی۔ اس معاہدے کا مقصد سلطنت ِ عثمانیہ کے مفتوحہ علاقوں کو آپس میں تقسیم کر نا تھا۔ معاہدے کی اہم شرائط کے مطا بق خلافت عثمانیہ کو مشرق وسطیٰ میں (عراق، شام ، فلسطین ) سے دستبردار ہو نا پڑا ترکیہ کی اپنی تقسیم ترکی کو اپنے آبائی اور تاریخی علاقوں سے بھی دستبردار ہو نا پڑا۔یو نان کو اٹلی اور فرانس کے زیرے اثر کردیا گیا ،آبنائے باسفورس ، داردانلیس اور استمبول کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کا فیصلہ ہوا ، اگر چہ اس پر عثمانی خلیفہ کی نام نہاد حکومت نے دستخط کردیئے تھے مگر ترکی کی قومی تحریک جس کی قیادت مصطفٰی کمال پا شا کر رہے تھے نے اِس ذلت آمیز معاہدے کو یکسر مسترد کر دیا ، پھر مصطفی کمال پا شاکی کی قیادت میں ترک فوج نے انگریز کے خلاف جنگ ِ آزادی لڑی اورکامیابی کے بعد 1923 ء میں نیا معاہدہ (Treaty of Lausanne ) معاہدہ لوزان سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس معاہدے کے مطابق آج کے جدید ترکیہ کی سرحدوں کو تسلیم کر لیا گیا ،معاہدے سیورے کے خلاف تحریک ترک موالات کا فیصلہ کیا گیا گاندھی کو اس تحریک کا رہنما مقرر کیا گیا طے پایا کہ اس تحریک کے تحت رہنما خطابات حکومت واپس کر دیں ، کونسلوں کی رکنیت سے استعفٰی دے دیئے جائیں سرکاری ملازمتو ں سے علیحدگی اختیار کرلی جائے ، تعلیمی ادارے امداد لینی بند کر دیں، مقدمات سرکاری عدالتوں کی بجائے ثالثی عدالتوں میں پیش کئے جائیں، انگریزی مال کا بائیکاٹ کیا جائے تحریک ترک موالات تحریک خلافت کے ساتھ جاری تھی ،5 فروری 1922 ء کو تحریک خلافت کی حمایتی لوگوں نے مشتعل ہو کر اتر پردیش کے گاؤں چورا چوری کے ایک تھانے کو آ گ لگا دی جس سے 22 سپاہی جل کر مر گئے۔

گاندھی جی نے اس واقعہ کو اپنی عدم تشدد تحریک اور فلسفے کے خلاف قرار دیا اور اپنی جانب سے تحریک ختم کر دینے کا اعلان کر دیا۔ جس سے انڈیا کے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچا۔ تحریک خلافت 1919 ء تا1924 ء جاری رہی 30 اکتوبر 1923 ء میں جدید ترکیہ کی جنگ ِ آزادی کے ہیرو مصطفی کمال پاشا اقتدار میں آ چکے تھے تو اُنہوں نے 23 مارچ 1924 ء کو خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا اور ترکی کو ایک جمہوریہ بنانے کا اعلان کردیا ، یوں اب ہندوستان میں تحریک خلافت کے چلانے کا کوئی جواز نہیں رہا تھا اس لیے ہندوستان میں تحریک خلافت خود ہی اختتام پذیر ہو گئی۔ اگرچہ اس تحریک خلافت سے ہندوستان کے مسلمانوں کو مجموعی طور پر بہت نقصان ہو ا ، مگر اس کے کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے، اس تحریک کے نتیجے میں جب گاندھی نے چورا چوری کے واقعے کے بعد تحریک کو ختم کر دیا تو اس سے مسلمانوں نقصان پہنچا مگر اِن کواحساس ہو گیا کہ ہندو یا کانگریس کسی بھی وقت مسلمانوں سے مشاورت کے بغیر اچانک مسلمانوں کا ساتھ چھوڑسکتی ہے۔

 ایک سوال تحریک خلافت کی ایک صدی مکمل ہوجانے کے بعد اب تک اٹھتا رہتا ہے کہ قائد اعظم نے تحریک خلافت میں کیوں حصہ نہیں لیا یا اِس کی قیادت کیوں نہیں کی؟ میرے خیال میں قائداعظم پوری صورتحال کو عالمی، علاقائی اور ہندوستان کی سیاست کے پس منظر اچھی طرح بھانپ گئے تھے۔ وہ جنگ کے آغاز ہی میں غالبا ً یہ جان چکے تھے کہ اس جنگ میں کس کی فتح ہو گی۔ قائداعظم بہت حقیقت پسند تھے اور جذبات کے مقابلے میں حقائق کو کہیں زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ترکیہ کی یہ سلطنت عثمانیہ میں جمہوری اور آئینی حکمرانی کے بجائے ملوکیت تھی۔ ترکیہ کے سلاطین اپنی سلطنت کے دیگر علاقوں بشمول عرب ،وہاں کے لوگوں کو اسلامی اخوت اور مساوت کے مطابق ترکوں کے برابر حقوق نہیں دیئے تھے۔

اِن کے امر اء، قبائلی سرداروں اور شیوخ کو بھی اِن کے علاقوں میں مقامی طور گورنر وغیر ہ نہیں بنایا جاتا تھا۔ یعنی وہ اپنے علاقوں میں ترکیہ کی ماتحتی میں بھی اقتدار میں شریک نہیں تھے۔ سلطنت عثمانیہ نے اپنی سلطنت میں سائنسی علوم اور تحقیق پر توجہ نہیں دی تھی۔ قائد اعظم یہ سمجھتے تھے کہ عوامی جذبات کو ابھارتے ہو ئے تحریک کو مذہبی جوش دینے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر آئینی قانونی اور عملی سیاست سے مسئلے کو حل کر نا چاہیے۔ قائد اعظم کا یہ موقف بھی تھا کہ گاندھی جی نے اس تحریک کو عدم تعاون کا جو رستہ دکھا یا ہے وہ غیر عملی تھا، اس سے برصغیر کے مسلمانوں کو سیاسی نقصان پہنچے گا۔ قائد اعظم اس تحریک کو وقتی جذبات پر مبنی قرار دیتے تھے یہی وجہ تھی کہ 1920 میں جب تحریک عروج پر تھی قائد اعظم نے آل انڈیا کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔ بعد میں قائدا عظم کے اندیشوں کو درست قرار دیا گیا یوں ہم دیکھتے ہیں کہ قائدا عظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت ہندوستان کے اُس وقت کے تمام لیڈروں سے زیادہ اور درست سمت میں تھی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ