وینزویلا کی حزبِ اختلاف کی اہم رہنما ماریا کورینا ماچاڈو 10 ماہ سے زائد عرصے تک جلاوطنی میں رہنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ماچاڈو نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا، ’’میں یہاں ہوں، آپ کے ساتھ۔‘‘۔
ان کی واپسی سے قبل وطن آنے کی متعدد کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔
چرچ میں حاضری، حامیوں نے پرتپاک استقبال کیا
وطن واپسی کے بعد ماریا کورینا ماچاڈو کو ریاست لارا کے ایک چرچ میں عبادت کے لیے جاتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں ان کے حامیوں نے انہیں گھیر لیا، گلے ملے اور ہاتھ تھام کر خیرمقدم کیا۔
وینزویلا کے سابق صدارتی امیدوار اور ماچاڈو کے سیاسی اتحادی ایڈمنڈو گونزالیز نے بھی ان کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وطن آمد وینزویلا کے عوام کے لیے ایک اہم دن ہے۔
نوبیل امن انعام وصول کرنے کے لیے ملک چھوڑا تھا
ماریا کورینا ماچاڈو نے جنوری میں وینزویلا چھوڑا تھا تاکہ ناروے میں نوبیل امن انعام وصول کرنے کی تقریب میں شرکت کرسکیں۔ ان کی روانگی کے بعد وینزویلا کی سیاسی صورتِ حال میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
بی بی سی کے مطابق، جنوری میں امریکی فورسز نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرکے امریکا منتقل کردیا تھا، جہاں انہیں منشیات، ہتھیاروں اور تشدد سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔
بعد ازاں مادورو کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے عبوری صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ ان کی حکومت نے امریکا کے ساتھ تیل سے متعلق ایک معاہدہ بھی کیا، جس کی شرائط امریکی مفادات کے لیے خاصی سازگار بتائی گئی ہیں۔
ماچاڈو کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا
ماریا کورینا ماچاڈو نے 2023 میں حزبِ اختلاف کے ابتدائی صدارتی انتخاب میں 90 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ تاہم، نکولس مادورو کی حکومت نے انہیں 2024 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔
حکومت نے ان پر دھوکا دہی اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے، جنہیں ماچاڈو نے سیاسی بنیادوں پر لگائے گئے الزامات قرار دیا۔
بعد ازاں ان کے اتحادی ایڈمنڈو گونزالیز نے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا۔ سرکاری انتخابی ادارے نے مادورو کو کامیاب قرار دیا، لیکن تفصیلی نتائج جاری نہیں کیے گئے۔
حزبِ اختلاف نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے انتخابی ریکارڈ کی نقول پیش کیں اور دعویٰ کیا کہ کامیابی گونزالیز کی ہوئی تھی۔
امریکا نے واپسی میں کردار ادا کرنے کا دعویٰ کردیا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ماچاڈو کی وطن واپسی کو امریکا کی حمایت سے ہونے والی سیاسی مفاہمت کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
ان کے بقول ان مذاکرات کے دوران سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جلاوطنی اختیار کرنے والے حزبِ اختلاف کے متعدد رہنماؤں کی واپسی ممکن ہوئی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ماچاڈو کی واپسی کے بارے میں معلومات نہیں، تاہم انہوں نے ان کی سلامتی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ماچاڈو کے ترجمان ڈیوڈ سمولانسکی نے ان کی واپسی کو جمہوری انتقالِ اقتدار اور آزادانہ انتخابات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی کیا ہوگی؟
ابھی یہ واضح نہیں کہ ماریا کورینا ماچاڈو وطن واپس آنے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کس طرح کریں گی۔ وہ پہلے کہہ چکی ہیں کہ اگر صدارتی انتخابات منعقد ہوئے تو وہ دوبارہ امیدوار بننے کے لیے تیار ہوں گی۔

