سینما کی ترقی اور یادوں کا سفر

207598 DoctorNaveedI 1723086703


گزشتہ دنوں ہماری ملاقات بچپن کے ایک دوست سے ہو گئی۔ نام تو ان کا حمید ہے، لیکن بچپن میں سارے دوست انھیں ’’میدہ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ ان سے ملنے کے بعد ہمیں اپنا پرانا دور یاد آ گیا، جب ہمارے یہ دوست ہمیں سینما میں لگنے والی ہر نئی فلم کی کہانی سناتے تھے اور خود اداکار سلطان راہی کی بہت اچھی نقل بھی اتارتے تھے۔

ہمیں یاد ہے کہ جب ہمارے اس دوست کی شادی ہوئی تو ان کے والد صاحب نے محلے والوں کو فلم دکھانے کا اہتمام کیا۔ چنانچہ عین سڑک کے بیچ دو بانس گاڑے گئے اور ان کے درمیان سفید چادر تان دی گئی۔ پھر رات کو اس پر پنجابی فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ دکھائی گئی، تمام محلے والے جمع ہو گئے اور سب نے مزے سے فلم دیکھی۔

یہ وہ دور تھا جب لوگ صرف سینما ہی میں فلمیں نہیں دیکھتے تھے بلکہ اپنی شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی محلے کے لوگوں کو فلم دکھانے کا انتظام کرتے تھے۔ فلم دکھانے کے لیے علاقے میں کوئی نہ کوئی ایسی دکان ضرور ہوتی تھی جہاں شادی کے موقع پر گانے بجانے کے لیے لاؤڈ اسپیکر دستیاب ہوتے تھے۔

لاؤڈ اسپیکر لگا کر شادی والے گھر میں ایک ہفتے تک گانے چلائے جاتے تھے اور پورا محلہ انھیں سنتا تھا۔ان دکانوں پر فلم دکھانے کے لیے پروجیکٹر کا بھی انتظام ہوتا تھا۔ لوگوں کی فرمائش پر دکاندار اپنا پروجیکٹر لے کر محلے میں پہنچتا اور پھر بانسوں کے درمیان تنی ہوئی بڑی سی سفید چادر پر فلم چلاتا۔ سارے محلے والے جمع ہو کر فلم دیکھتے تھے۔

خیر، اس کے بعد وی سی آر کا دور بھی آیا، جب پاکستان کی ذہین قوم ایک وی سی آر میں لیڈ، یعنی اینٹینا کی تار، لگا کر پورے محلے کے گھروں میں رات بھر بھارتی فلمیں دیکھنے کا بندوبست کر لیتی تھی۔ خیر ترقی ہوتی رہی،سینما میں تھری ڈی فلمیں بھی جلد ہی منظر عام پر آ گئیں، جن میں دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اسکرین پر موجود چیزیں باہر نکل کر ان کی طرف آ رہی ہوں۔ ایک مرتبہ ہم بھی تھری ڈی چشمہ لگا کر سینما میں فلم دیکھ رہے تھے اور اپنے آپ کو سنبھال کر بیٹھے ہوئے تھے۔

فلم کے ایک منظر میں ہم نے دیکھا کہ ایک ہیرو کسی پُراسرار پرانے قلعے میں داخل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ عجیب و غریب واقعات پیش آنے لگتے ہیں۔ اچانک تیروں کی بارش ہونے لگتی ہے اور ایک تیر اسکرین سے نکل کر بالکل ہمارے سامنے آتا محسوس ہوتا ہے چنانچہ خوف کے مارے فوراً نیچے بیٹھ گئے حتیٰ کہ بڑی عمر کے فلم بین بھی نیچے بیٹھ گئے۔ جب بعد میں احساس ہوا کہ یہ تو فلم کا ایک منظر تھا تو ہم خود ہی ہنسے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔بہرحال، آج ہم دیکھتے ہیں کہ صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ فلم سینما گھر سے نکل کر ہمارے موبائل فون، کمپیوٹر، ٹی وی اور حتیٰ کہ ہمارے ہاتھ میں موجود ایک چھوٹی سی اسکرین تک پہنچ چکی ہے۔اس تبدیلی میں نیٹ فلیکس کا کردار بھی بہت اہم ہے۔

نیٹ فلیکس نے پہلے انٹرنیٹ کے ذریعے ڈی وی ڈی کرائے پر دینے کی سروس شروع کی۔ صارف انٹرنیٹ کے ذریعے ڈی وی ڈی منتخب کرتا اور فلم اس کے گھر پہنچ جاتی۔ پھر نیٹ فلیکس نے کمپیوٹر پر فلمیں اور ٹی وی پروگرام فوری طور پر دیکھنے کی سہولت فراہم کر دی۔نیٹ فلیکس نے صارفین کی سابقہ پسند کے مطابق پروگرام تجویز کرنے کا نظام بھی استعمال کیا۔ اس طرح ناظرین کو دیکھنے کے معاملے میں پہلے سے زیادہ اختیار حاصل ہو گیا۔ وہ اپنی سہولت کے مطابق فلم یا پروگرام دیکھ سکتے تھے اور اپنی پسند کا مواد منتخب کر سکتے تھے۔نیٹ فلیکس نے 2013 میں ایک نیا رجحان متعارف کرایا، جس کے تحت کسی ڈرامے یا سیریز کا پورا سیزن ایک ساتھ جاری کیا جانے لگا۔ اب ناظرین کو اگلی قسط دیکھنے کے لیے پورا ہفتہ انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ وہ چاہیں تو ایک ہی نشست میں کئی اقساط دیکھ سکتے تھے۔

اب نیٹ فلیکس محض فلمیں اور ڈرامے دکھانے والا پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ لائیو انٹرٹینمنٹ، گیمز، کھیلوں کی نشریات اور انٹرایکٹو تجربات کی جانب بھی بڑھ رہا ہے۔مثلاً نیٹ فلیکس نے ’’ریئل ٹائم ووٹنگ‘‘ کا فیچر متعارف کرایا۔ اس سہولت کے تحت منتخب لائیو پروگراموں میں ناظرین پروگرام دیکھتے ہوئے ووٹ دے سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں ان کے ووٹ پروگرام یا مقابلے میں شریک افراد کی پیش رفت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ نیٹ فلیکس فلم سازی کی ٹیکنالوجی میں بھی تیزی سے سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس سے مزید جدت کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ تصور بھی کیا جا رہا ہے کہ شاید آنے والے وقت میں فلم کا کوئی شوقین نیٹ فلیکس کھولے اور اسے حکم دے کہ’’مجھے دو گھنٹے کی ایکشن سے بھرپور فلم چاہیے‘‘ جس کا مرکزی کردار ماضی کے مقبول اداکار سلطان راہی کا ہو، لیکن ہیروئن آج کی کوئی ہو۔ کہانی کراچی میں ہو، ماحول سنجیدہ ہو، تھوڑا سا مزاح بھی ہو اور اختتام حیران کن ہو۔‘‘اگر ہم سینما کی اسکرین کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک وہ دور تھا جب ہم سینما میں بیٹھ کر ایک مخصوص ماحول میں پردہ اسکرین پر فلم دیکھتے تھے لیکن کچھ ہی عرصے بعد ’’ڈرائیو اِن سینما‘‘ متعارف ہوئے، جہاں لوگ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر سامنے نصب بڑی سی اسکرین پر فلم دیکھ سکتے تھے۔

بہت بڑی سینما اسکرین، آئی میکس، 270 یا 360 ڈگری پروجیکشن اور چھت سمیت پورے ماحول پر مناظر دکھانے والی ٹیکنالوجی نے فلم دیکھنے کے تجربے کو ایک نئی جہت دی۔آج کے دور میں سامنے اور دائیں بائیں مناظر دکھانے والی ٹیکنالوجی ’’اسکرین ایکس‘‘ بھی موجود ہے۔ اس میں سامنے کی مرکزی اسکرین کے ساتھ دائیں اور بائیں دیواروں پر بھی فلم کے مناظر پروجیکٹ کیے جاتے ہیں۔ اس طرح ناظر کے سامنے تقریباً 270 درجے تک پھیلا ہوا ایک وسیع منظر ہوتا ہے۔فلم کے مخصوص مناظر میں تصویر تینوں اطراف پر پھیل جاتی ہے اور اضافی پروجیکٹر دیواروں پر تصاویر دکھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ گنبد نما ہالوں میں بھی ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، جس کے ذریعے ہال کی اندرونی سطح، حتیٰ کہ چھت پر بھی تصاویر دکھائی جا سکتی ہیں۔ ناظر کو یوں محسوس ہو سکتا ہے جیسے وہ ستاروں بھرے آسمان کے نیچے، سمندر کی تہہ میں یا کسی خلائی جہاز کے اندر بیٹھا ہو۔





Source link

متعلقہ پوسٹ