برازیلیا: برازیل کے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں لوئیز ایناسیو لولا دا سلوا نے دائیں بازو کے امیدوار فلیویو بولسونارو کو شکست دے کر چوتھی بار صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ سپریم الیکٹورل کورٹ کے سرکاری نتائج کے مطابق لولا کو ۶کروڑ ۴۲لاکھ ۵۶ہزار ۲۳۲ ووٹ (۵۱٫۷۹ فیصد) ملے، جبکہ بولسونارو کو ۵کروڑ ۹۸لاکھ ۲۶ہزار ۴۱ ووٹ (۴۸٫۲۱ فیصد) ملے۔ دونوں کے درمیان تقریباً ۴۴لاکھ ووٹوں کا فرق رہا۔
۸۰سالہ لولا ۲۰۰۳ء سے ۲۰۱۱ء تک صدر رہ چکے ہیں اور ۲۰۲۳ء میں تیسری بار منتخب ہوئے تھے۔ ۴؍ اکتوبر کے پہلے مرحلے میں وہ ۴۵ فیصد کے ساتھ ۴۷ فیصد لینے والے فلیویو بولسونارو سے پیچھے تھے، مگر کسی کو ۵۰ فیصد ووٹ نہ ملنے پر دوسرا مرحلہ ہوا۔ ۴۵سالہ فلیویو سابق صدر ژائیر بولسونارو کے بیٹے ہیں، جنہیں ۲۰۲۲ء کے انتخابات کے بعد اقتدار پر قبضے کی کوشش کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی۔
ووٹنگ کے دن سپریم کورٹ کے جج کرسٹیانو زانین نے ٹرانسپورٹ مسائل اور خراب موسم کے باعث بعض علاقوں میں وقت میں دو گھنٹے کی توسیع دی۔ فلیویو بولسونارو نے اس فیصلے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے نتائج منسوخ کرانے کے لیے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق کسی امیدوار کے اعتراض سے سرکاری نتیجہ خود بخود کالعدم نہیں ہوتا۔
حامیوں سے خطاب میں لولا نے جمہوریت اور عوامی شرکت پر زور دیا اور کہا کہ برازیل کسی کا ’’پچھواڑا‘‘ نہیں۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محصولات کی پالیسیوں کے تناظر میں اہم سمجھا جارہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں ۱۵کروڑ ۸۷لاکھ سے زائد اہل ووٹرز میں سے تقریباً ۱۲کروڑ ۸۲لاکھ نے ووٹ ڈالا۔ ووٹ نہ ڈالنے کی شرح ۱۹٫۲ فیصد رہی جو پہلے مرحلے میں ۲۱٫۰۸ فیصد تھی۔ لولا ۵؍ جنوری ۲۰۲۷ء کو حلف اٹھائیں گے۔

