ایران اور مکہ معاہدے میں شامل ملکوں کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

399463 677971440


ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے پیر کو تہران میں چاروں ممالک کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات کے بعد علاقائی امن و سلامتی سے متعلق مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بات مذاکرات کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہی گئی۔

ملاقات میں ایران کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے والے تین ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے نمائندے شریک ہوئے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

اس معاہدے پر اگست میں دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں دستخط کنندہ ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے تیز کر دیے ہیں اور علاقائی حکومتیں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑے پیمانے پر دوبارہ لڑائی چھڑنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

خلیجی خطے کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں خلل کے باعث تنازع کے معاشی اثرات بھی وسیع ہو گئے ہیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ’شرکا نے خطے میں امن و سلامتی سمیت مختلف امور پر چاروں علاقائی ممالک کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔‘

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ لڑائی سے نمٹنے کے لیے چاروں ممالک کیا اقدامات کریں گے یا ان کی اگلی ملاقات کب ہو گی۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اس اجلاس کی میزبانی کی، جس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن نے شرکت کی۔

دورے کے دوران پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی عاصم منیر کے ہمراہ تھے۔

تینوں ممالک کے دورہ کرنے والے وفود نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی صدر نے ایسے مفاہمتی اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا جن سے علاقائی اتحاد مضبوط ہو۔

ارنا نے بتایا کہ صدر پزشکیان نے ملاقات کے دوران کہا ’اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی ممالک کے اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ہونے والی ہر مفاہمت کی حمایت کرتا ہے۔‘

ارنا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی اور محسن رضائی بھی ملاقات میں موجود تھے۔

پزشکیان نے کہا کہ ایران علاقائی تعاون کو مزید گہرا کرنے، اختلافات دور کرنے اور سلامتی و ترقی کو مضبوط بنانے والی مفاہمتوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

پاکستان کی فوج نے عاصم منیر کے دورے کی تصدیق کی، تاہم مذاکرات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد ایران اور ان تینوں ممالک کے درمیان اس چار ملکی فارمیٹ میں یہ پہلی اعلیٰ سطح کی ملاقات ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے دعویٰ کردہ حملے میں 13 افراد جان سے گئے اور ہوائی اڈے پر پروازوں کا آپریشن معطل ہو گیا۔

سعودی عرب نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے نئے حملوں کی دھمکیوں کے باوجود اتوار کو دو ٹرمینلز پر آپریشن بحال کر دیا گیا۔

ان حملوں نے ایران کے ساتھ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوششوں میں تیزی لانے کی ضرورت بڑھا دی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے مذاکرات سے قبل کہا تھا کہ یہ ملاقات علاقائی سلامتی کا نظام تشکیل دینے میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’تہران میں چار ممالک کی یہ ملاقات یقینی طور پر مقامی سطح پر علاقائی سلامتی کا نظام تشکیل دینے میں ایک مؤثر اور اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔‘

پاکستان اس سے قبل بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کے لیے قطر کے ساتھ مل کر کام کرتا رہا ہے۔

جون میں قطر کی ثالثی سے طے پانے والے ایک عبوری معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بحال کرنا اور وسیع تر تصفیے کے لیے مذاکرات شروع کرنا تھا، تاہم بعد میں یہ معاہدہ ناکام ہو گیا۔

پاکستان میں ایران کے سفیر نے اتوار کو کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے بدستور تیار ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ