گامبیا — ملک کے پہلے نابینا مجسٹریٹ محمد کروبالی نے کہا ہے کہ گامبیا کا عدالتی، تعلیمی اور عوامی نظام بنیادی طور پر اہلِ بینا افراد کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے نابینا اور معذور افراد کو روزمرہ زندگی میں سنگین رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
41 سالہ محمد کروبالی نے 2016ء میں گامبیا کے پہلے بصارت سے محروم مجسٹریٹ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا اور اب تک ایک ہزار سے زائد سول و فوجداری مقدمات کی صدارت کی ہے۔ گامبیا آرگنائزیشن آف دی ویژولی امپیئرڈ (GOVI) انہیں اس عہدے پر فائز ہونے والے ملک کے پہلے نابینا شخص کے طور پر شناخت کرتی ہے۔
کروبالی کمرہ عدالت میں اسکرین ریڈر JAWS، مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ گلاسز، آوازوں، یادداشت اور کلرک کی مدد سے کارروائی کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نظام کو جامع بنانے کے لیے مجسٹریٹ بننے کا فیصلہ کیا، تاہم عدلیہ میں شمولیت کے بعد بھی رکاوٹیں ختم نہیں ہوئیں۔�
گامبیا کا پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2021ء میں منظور ہوا تھا، جو عدم امتیاز، مکمل شرکت، مساوی مواقع، رسائی اور انصاف تک رسائی کے اصولوں کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق امتیازی سلوک اور خدمات، تعلیم و روزگار تک رسائی کی مشکلات اب بھی معذور افراد کے لیے بڑی رکاوٹیں ہیں۔
GOVI کے ریسورس سینٹر فار دی بلائنڈ میں چار سے 14 سال کی عمر کے 49 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اسکول کے سربراہ لامین کولے کے مطابق محدود تعلیمی مواد اور بڑے اسکول کلسٹرز کی وجہ سے خصوصی ضروریات کے اساتذہ تمام طلبہ کو مؤثر مدد فراہم نہیں کر سکتے، جبکہ معذوری ایکٹ منظور ہونے کے بعد بھی عملی تبدیلی محدود رہی۔
گامبیا کی واحد نابینا سابق رکن پارلیمنٹ اینڈے یاسین سیکا-صلاح نے بھی کہا کہ پارلیمنٹ میں نشست ملنے کے باوجود ادارہ قابل رسائی نہیں بنا اور انہیں کارروائی سمجھنے کے لیے ساتھیوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ ان کے مطابق معذور افراد کو خصوصی سلوک نہیں بلکہ آزادی اور حقیقی شمولیت چاہیے۔
کروبالی نے کہا کہ معذوری کا مطلب نااہلی نہیں ہے اور وہ ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں سب کے لیے شمولیت یقینی ہو۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے بارے میں ان کی نظر میں رکاوٹیں نہیں بلکہ امکانات ہیں۔

