اسلام آباد:
لاہور ہائیکورٹ نے ترک معارف فاؤنڈیشن کیخلاف پنجاب لیبر کورٹ اور متعلقہ اتھارٹیز کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ فاؤنڈیشن کے سابق ملازم کے دعوے سے متعلق تنازع کادوبارہ فیصلہ کرتے وقت پاکستان اور ترکی کے باہمی تعلقات کو مدنظر رکھا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں جسٹس جواد حسن کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے سماعت کرتے ہوئے ترک فاؤنڈیشن کی رٹ پٹیشن منظور کر لی اور پیمنٹ آف ویجز ایکٹ 1936 کے تحت کام کرنے والے اتھارٹی کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ پنجاب لیبر کورٹ کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا جس میںفاؤنڈیشن کی اپیل مسترد کر دی گئی تھی۔
عدالتی فیصلے میں اتھارٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ عصمت متین کے معاملے کادوبارہ فیصلہ کرے۔ عصمت متین ستمبر 2003 سے پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PTICEF) کے زیر انتظام ملتان کے ایک کیمپس میں وائس پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 2018 کے اس فیصلے کی روشنی میں کیا جائے جس میں پاکستان اور ترکیہ کے مابین دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔

