اوباما نے ٹرمپ کی ایران جنگ پر تنقید کی: "سات ماہ بعد امریکہ کمزور پوزیشن میں”

trump 291026 d


سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سات ماہ بعد اس کارروائی نے ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن مضبوط کر دی ہے۔ انہوں نے یہ بات ۲۴ اکتوبر کو اوہائیو اور ۲۵ اکتوبر کو مشی گن (ڈیٹرائٹ) میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی انتخابی مہم کے دوران کہی۔
اوباما کے مطابق جنگ سے پہلے کہا گیا تھا کہ ایران کو جوہری پروگرام چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا، لیکن اس کے برعکس امریکی اتحادیوں اور فوجی اڈوں پر حملے ہوئے، امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے، اور میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب آبنائے ہرمز پر "ویٹو” کا اختیار رکھتا ہے۔ اوباما نے اپنے دور کے ۲۰۱۵ کے جوہری معاہدے کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے ایران کے پروگرام کو محدود کرتا تھا۔ انہوں نے تیل اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کو بھی انتظامیہ کے جنگی فیصلوں سے جوڑا۔
ٹرمپ نے اوباما کو "انتہائی نااہل” قرار دیا اور سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ اوباما نے ایران کو اربوں ڈالر دئیے اور اسے جوہری ہتھیار تک راستہ فراہم کیا۔ یہ بیانات ۳ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے سامنے آئے ہیں۔ اوباما نے مشی گن میں سینیٹ کے امیدوار عبدل السید اور گورنر کی امیدوار جوسلین بینسن کی حمایت میں خطاب کیا۔

متعلقہ پوسٹ