کیف نے روس کے متعدد علاقوں پر ایک ہزار سے زائد ڈرونز کا بڑا حملہ کیا، جس کے نتیجے میں سینٹ پیٹرزبرگ کی تیل کی تنصیبات میں آگ لگ گئی۔ روسی حکام کے مطابق حملوں میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔
روس کے دفاعی وزارت نے کہا کہ اُس نے مختلف علاقوں میں 1,015 یوکرینی ڈرونز مار گرائے۔ حملوں میں سینٹ پیٹرزبرگ آئل ٹرمینل اور روچی آئل ڈپو نشانہ بنے، جبکہ ایک لاجسٹکس سینٹر اور ڈیٹا سینٹر کو بھی نقصان پہنچا۔
یہ حملہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان ہوا۔ ٹرمپ نے روسی تیل کی تنصیبات پر یوکرین کے حملوں کو ”رسوائی“ قرار دیا اور زیلنسکی پر جنگ ختم کرنے میں دلچسپی نہ رکھنے کا الزام لگایا۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے، اس لیے وہ توانائی سے متعلق جنگ بندی کی پاسداری نہیں کرے گا۔ کیف کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد روس نے یوکرین کے توانائی کے شعبے پر 76 حملے کیے۔
دریں اثناء، روس نے یوکرین پر توانائی، تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانا جاری رکھا۔ کیف میں روس کے فضائی حملے میں ایک خاتون ہلاک اور تین افراد زخمی ہوئے، جبکہ ایک میٹرو اسٹیشن اور رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔
اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے تنازع کے حل کے لیے ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اگلے ماہ سربراہی اجلاس کی تجویز دی ہے، تاہم اس کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔

