تہران / تل ابیب — امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے چند روز بعد، ایران کی اسمبلی آف ایکسپرٹس نے انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کے شدید دباؤ پر مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ یہ خبر ایران انٹرنیشنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای، 56 سالہ، آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بڑے بیٹے ہیں۔ وہ آئی آر جی سی اور بسیج ملیشیا سے گہرے روابط رکھتے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی کوئی سرکاری حکومتی عہدہ نہیں سنبھالا۔
ذرائع کے مطابق جاری فضائی حملوں کے پیشِ نظر اسمبلی آف ایکسپرٹس کا باقاعدہ اجلاس بلانا ممکن نہیں تھا، اس لیے آئی آر جی سی نے آئینی طریقہ کار سے ہٹ کر فوری فیصلے پر زور دیا۔
تاہم ایران کی شیعہ علما کی روایت میں باپ سے بیٹے کو اقتدار منتقل ہونے پر تحفظات پائے جاتے ہیں، کیونکہ اسلامی جمہوریہ نے 1979ء کے انقلاب میں بادشاہت کو ختم کرنے کا نعرہ بلند کیا تھا۔
اس وقت ایران میں صدر مسعود پزشکیان، چیف جسٹس محسنی اعجئی اور سینئر عالمِ دین آیت اللہ علی رضا عرافی پر مشتمل عبوری کونسل ملک کا انتظام چلا رہی ہے۔
ایرانی حکومت کی جانب سے ابھی تک مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔

