اسرائیل: حکومت سازی کیلئے اپوزیشن لیڈر یائر گولان کی منصور عباس سے ملاقات

abbas 301026 d


تل ابیب: اسرائیلی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے جمعرات کو بتایا کہ انہوں نے یونائیٹڈ عرب لسٹ (رعام) کے سربراہ منصور عباس سے ملاقات کی ہے۔ مقصد کنیسٹ انتخابات کے بعد وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت کی جگہ نئی حکومت کی تشکیل کی کوششوں کو تیز کرنا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ملاقات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے گولان نے کہا کہ یہ ’’تبدیلی کی حکومت جلد از جلد تشکیل دینے اور اسرائیلی ووٹر کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے‘‘ کی کوشش ہے۔ انہوں نے ملاقات کا مقام نہیں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی کا وقت ہے اور تبدیلی کا موقع ضائع نہیں ہونا چاہئے۔
انتخابات کے بعد نیتن یاہو کا اتحاد حکومت بنانے کیلئے درکار اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ اخبار ’اسرائیل ہیوم‘ کے مطابق گولان نے یاشر پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ اور اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے ’’چینج بلاک‘‘ کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ عرب جماعتوں سے تعاون پر اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں۔ گولان پہلے بھی رعام کو مستقبل کی حکومت میں شامل کرنے کی حمایت کر چکے ہیں، جبکہ یسرائیل بیتینو کے سربراہ اویگدور لائبرمین عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے مخالف ہیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ کے مطابق ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔ ۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں نیتن یاہو کے اتحاد کو ۵۳؍، چینج بلاک کو ۴۸؍ اور عرب جماعتوں کو ۱۹؍ نشستیں ملی ہیں۔ رعام نے ۸؍ اور جوائنٹ لسٹ نے ۱۱؍ نشستیں حاصل کیں۔ چینج بلاک اور عرب جماعتوں کی مجموعی نشستیں ۶۷؍ بنتی ہیں، تاہم عرب جماعتیں باضابطہ طور پر چینج بلاک کا حصہ نہیں، اس لئے متبادل حکومت کا انحصار ان کے درمیان سیاسی مفاہمت پر ہوگا۔ حتمی نتائج کا اعلان آئندہ بدھ کو متوقع ہے۔

متعلقہ پوسٹ