(ویب ڈیسک) نارتھ کوریا کے مردِ آہن کِم جونگ اُن دو دن سے دنیا کی توجہ مرکز بنے ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کم جونگ اُن نے نارتھ کوریا کی فوج کو اپنی جنگ کرنے کی صلاحیت کو توسیع دینے اور کسی بڑی جنگ کی تیاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ کل 29 اکتوبر کو چئیرمین کم جونگ ان کی ہدایت جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی کےکورین شاہکاروں کی نمائش کے دوران سامنے آئی۔ 28 اکتوبر کو اُّن نے فوجی کمپنیوں کے کمانڈروں سے بظاہر معمول کی ملاقات کی تھی جنگ ک یتیاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔
کم جونگ اُن نارتھ کوریا کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ ہین جو طاقت کا اصل سرچشمہ ہے، وہ فوج کے کمانڈر انچیف بھی ہیں اور سٹیٹ کے سربراہ بھی ہیں۔ ان سب قوتوں کی یکجا ہونے کے ساتھ انہیں نارتھ کوریا کا سپریم لیڈر تصور کیا جاتا ہے جن کے منہ سے نکلی ہوئی بات پر کوریا میں بہرصورت عمل ہوتا ہے۔
28 اکتوبر کو فوجی قیادت اور 29 اکتوبر کو ڈرون نمائش میں ان کی شرکت کے دوران رپورٹ ہوئی گفتگو دو الگ واقعات تھے لیکن دونوں جگہ ان کا جارحانہ لب و لہجہ اور معمول سے کچھ زیادہ جارحانہ الفاظ کے ساتھ جنگ کی تیاریوں کی گفتگو کو امریکہ اور مغرب میں زیادہ توجہ سے دیکھا گیا۔ یہ گفتگوئیں معمول کے مطابق پیانگ یانگ سے سرکاری نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیں۔ دونوں تقریبات کی خبریں 28 تا 30 اکتوبر کے درمیان سامنے آئیں۔کم جونگ اُن کا جنگی صلاحیتوں کو وسعت دینے کا اعلان کئی دارالحکومتوں میں تشویش پیدا کر رہا ہے۔

واشنگٹن ٹائمز نے اس کہانی کا ایک ورژن واشنگٹن ٹائمز کے "تھریٹ سٹیٹس” نیوز لیٹر میں شائع کیا۔ اس نیوز آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے بدھ اور جمعرات کو ہائی ٹیک فوجی پیش رفت کا معائنہ کیا، کیونکہ ان کی بڑی، لیکن پرانے زمانے کی، مسلح افواج ویلیو چین پر اوپر سے اوپر جانا جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس نیوز آؤت لیٹ نے لکھا کہ روس میں اعلیٰ ٹیکنالوجیز اور حالیہ جنگی تجربے (یوکرائن وار) نے ممکنہ طور پر کِم کی 1.1 ملین اہلکاروں پر مشتمل فوج کی مہلک صلاحیت میں اضافہ کیا ہے، نئے ISR — انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی — اثاثے (اے آئی ڈریون ڈرون)جزیرہ نما کوریا میں سیکورٹی کو غیر مستحکم کرنے کے بجائے مستحکم کرنے کے لیے زیادہ کام کر سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا میں شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی مونیٹرنگ سے سامنے آنےوالی تصاویر میں پریذیڈنٹ کم کو ظاہری ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم طیارے پر سوار ہوتے دکھایا گیا ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کمیونسٹ ریاست کی طرف سے ڈپلائی کیا گیا پہلا AEW&CS طیارہ ہے۔
کل جمعرات کے روز شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں گزشتہ روز جدید ڈرون ائیروناٹیکل ٹیکنالوجی کی نمائش میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے شرکت کی تو نارتھ کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ مین کہا کہ اس نمائش کا مقصد فاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کی تکنیکی طاقت کو اجاگر کرنا تھا۔ اس نمائش میں ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت اور مستقبل کے منصوبوں کو پیش کیا گیا جن میں مختلف اقسام کے سٹریٹجک، آپریشنل اور ملٹی پرپز ڈرونز کے ساتھ ساتھ خودکش حملہ آور ڈرونز بھی شامل تھے۔

کم جونگ ان نے اپنے خطاب میں فوج پر زور دیا کہ جدید جنگوں کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیشِ نظر ڈرون ٹیکنالوجی میں مکمل برتری حاصل کرنا ایک ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’طاقت ہی امن ہے۔ امن کی ضمانت صرف طاقت سے ہی دی جاسکتی ہے‘۔ اُن نے نارتھ کوریا کے سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ ڈرون ٹیکنالوجی اور دفاع کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذریعہ تیز ترین ڈیویلپمنٹ کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
نمائش کے دوران جن جدید ترین ہتھیاروں کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ ان مین سے کئی نارتھ کوریا کے مخالفوں کی نیند اڑا دینے والے تھے۔ اس مظاہرے میں زیادہ جدید تصور کئے جا رہے ٹیکٹیکل خودکش ڈرونز، ملٹی پرپز ڈرونز سے فائر کیے جانے والے فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں اور ٹیکٹیکل کروز میزائلوں نے اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، ایک 600 ملی میٹر کیلیبر کے الٹرا پریسیژن ملٹی پل راکٹ لانچر جسے ’سنائپر کا نام دیا گیا ہے، اس نے بھی پہلی بار دنیا کے سامنے آ کر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
پچھلے ہفتے ایک انٹرویو میں،جنوبی کوریا کی سپیشل فورسز کے ریٹائرڈ کمانڈر جنرل چون ان بم نے نوٹ کیا تھا کہ خوشحال ممالک میں خصوصی ہتھیار افواج کی قوت کو بڑھانے کے لئے لازمی ہوتے ہیں۔ ان فوجوں کی قوت کو فائر پاور، ایئر پاور اور بیک اپ کی مختلف شکلیں ترتیب دیتی ہیں۔ لیکن ساؤتھ کورین ایکسپرٹ نے تسلیم کیا کہ ناتھ کوریا کے کیس مین بات یکسر مختلف ہے۔ ان کی فوج کو ہتھیاروں کے بغیر ہی برتری حاصل رہتی ہے کیونکہ نارتھ کوریا کی فورسز نو ریترن مشن بھی کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا، "شمالی کوریا کے فوجیوں میں حوصلہ افزائی کی ہمت کافی متاثر کن ہے،” انہوں نے گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا میں مقیم ڈمپل ویڈیو کو بتایا کہ "ان میں دیگر قسم کے عناصر جیسے فضائی طاقت اور سیٹلائٹ مواصلات کو مربوط کرنے کی صلاحیت نہیں ہے – اس طرح کی چیزوں کے ضمن میں کِم کی بڑھتی ہوئی ISR صلاحیتوں کا – جوابی طور پر – جنگ سے زیادہ امن پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ایک واحد AEW&CS طیارے کا استعمال محدود ہے – کم از کم جنگ کے وقت میں – شمالی کوریا کے پاس اس ہتھیار کی موجودگی نے واشنگٹن کو تشویش میں مبتلا کیا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ یہ "طیارہ… تنازعہ کے وقت… ریاستہائے متحدہ امریکہ کے لیے ایک اہم ہدف ہوگا۔ ” حالانکہ ، شاید، یہ زیادہ معمول کی کارروائیوں، سرحد پر نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور قیمتی انٹیلی جنس فراہم کرنے اور روزانہ کی نگرانی کے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔”
ایک ماہر نے آف ریکارڈ بات کرتے ہوئے واشنگٹن ٹائمز کو بتایا کہ ISR کے اثاثوں میں اضافہ جزیرہ نما سیکورٹی کو غیر مستحکم کرنے کے بجائے مستحکم کر سکتا ہے۔
یہ دیکھتے ہوئے کہ شمالی کوریا کی طرف سے جنوبی کوریا میں جاسوسی کی کارروائیاں حالیہ برسوں میں پیچھے ہٹ گئی ہیں، لیکن اب اعلی درجے کے ISR اثاثے انٹیلی جنس خلا کو پُر کر سکتے ہیں اور شمالی کوریا کی قیادت کو یقین دلا سکتے ہیں۔ – شمالی کوریا مسلسل اور شدید طور پر سیئول اور واشنگٹن پر نارتھ کوریا کے ساتھ دشمنی کے ارادے کا الزام لگاتی ہیں –

