لندن/واشنگٹن: برطانیہ، امریکہ، جاپان اور یورپ بھر کی حکومتیں اپنے شہریوں پر زور دے رہی ہیں کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔ کئی ممالک کی حکومتوں نے عوام کو کم از کم ۷۲ گھنٹوں یا تین دن کیلئے ضروری سامان ذخیرہ کرنے کی تلقین کی ہے، جبکہ دنیا میں جنگوں اور قدرتی آفات سے تباہی کے اندیشے شدید ہوتے جا رہے ہیں۔
برطانیہ، امریکہ، جاپان اور یورپ بھر کی حکومتیں اپنے شہریوں پر زور دے رہی ہیں کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔ کئی ممالک کی حکومتوں نے عوام کو کم از کم ۷۲ گھنٹوں یا تین دن کیلئے ضروری سامان ذخیرہ کرنے کی تلقین کی ہے۔ شہریوں کو خبردار کرنے کی یہ مہم، روس-یوکرین کی جنگ، سائبر حملوں، تخریب کاری اور قدرتی آفات سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر چلائی جا رہی ہے۔ ان ہدایات کے سامنے آنے کے بعد عوام اور سوشل میڈیا صارفین میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تیسری جنگِ عظیم کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔
برطانیہ کی جانب سے ۲۲ اکتوبر کو ’بی ریڈی‘ (Be Ready) مہم کا دوبارہ آغاز کیا گیا، جس میں شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ تین دن (۷۲ گھنٹے) کی ضروریات کا سامان ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔ ان اشیائے ضروریہ میں پینے کا پانی، خراب نہ ہونے والی خوراک، ٹارچ، بیٹریاں، فرسٹ ایڈ کٹ، نقد رقم، پاور بینک اور چابی والا ریڈیو (wind-up radio) شامل ہے۔ برطانیہ کی ۲۰۲۵ء کی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی نے روسی جارحیت، معاندانہ سائبر سرگرمیوں اور تخریب کاری کو بڑے خدشات کے طور پر شناخت کیا تھا۔
فارچیون (Fortune) کے مطابق، امریکہ میں پینٹاگون مبینہ طور پر ’فورٹریس‘ (FORTRESS) نامی ایک منصوبہ تیار کر رہا ہے تاکہ بڑے فوجی اڈوں کو بیرونی امداد کے بغیر کم از کم ۹۰ دنوں تک فعال رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔ جاپان، جہاں زلزلے جیسی قدرتی آفات آتی رہتی ہیں، ۲ نومبر کو اپنی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے قیام کے وقت ایک نئی ہنگامی اپیل جاری کرے گا جس میں عوام کو کم از کم تین دن اور مثالی طور پر ایک ہفتے کی تیاری کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ یورپی یونین کی ’پریپیرڈنیس یونین اسٹرٹیجی‘ جو مارچ ۲۰۲۵ء میں منظور کی گئی تھی، شہریوں کو ۷۲ گھنٹوں تک آزادانہ طور پر حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونے کی سفارش کرتی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق، فن لینڈ، سویڈن، پولینڈ، ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا نے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے شہری دفاع کے اقدامات کو وسعت دیتے ہوئے پناہ گاہوں کی تزئین و آرائش اور شہریوں کی تربیت جیسے اقدامات کئے ہیں۔ فن لینڈ نے اناج ذخیرہ کرنے کی حد کو بڑھا کر ۹ ماہ کر دیا ہے۔ سویڈن نے اپنے ہمہ گیر دفاعی نقطہ نظر (total-defence approach) کو بحال کر دیا ہے۔ پولینڈ بھی ۲۰۲۵ء میں شہری دفاع کا ایک قانون منظور کر چکا ہے۔
حکام نے زور دے کر کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ تیسری جنگِ عظیم سر پر ہے۔ ۷۲ گھنٹوں کی رہنما ہدایات کا مقصد کسی بحران کے ابتدائی مراحل کے دوران عوام کو معاملات سنبھالنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ کسی بھی بحران کے دوران ابتدائی ۷۲ گھنٹے نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جب حکام ریسکیو آپریشنز اور اسپتالوں کی خدمات جیسی فوری امدادی کوششوں کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔
شہریوں کو خبردار کرنے کی یہ مہم، روس-یوکرین کی جنگ، سائبر حملوں، تخریب کاری اور قدرتی آفات سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر چلائی جا رہی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تیسری جنگِ عظیم کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ جاپان میں عوام کو کم از کم تین دن اور مثالی طور پر ایک ہفتے کی تیاری کرنے کی ترغیب دی جائے گی، جبکہ فن لینڈ نے اناج ذخیرہ کرنے کی حد ۹ ماہ کردی ہے۔

