پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی نے نئے صوبے کے معاملے پر فل اسٹاپ لگا دیا ہے اور ملک میں انتظامی یونٹس کے معاملے کو بھی اب بند ہو جانا چاہیے۔ سندھ کے عوام اپنی قسمت کا خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔
سندھ کی حد تک تو نئے صوبوں کے قیام کی بات درست ہے کیونکہ سندھ میں ایم کیو ایم واحد پارٹی سے جو سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی حامی ہے اور مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر سندھ بشیر احمد میمن نے ذاتی حیثیت میں سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کو وقت کی ضرورت قرار دے کر اس کی ضرور حمایت کی ہے مگر سندھ کی دیگر بڑی قومی پارٹیوں جے ڈی اے اور فنکشنل لیگ، جے یو آئی، جماعت اسلامی نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کر چکی ہیں جبکہ ملکی سطح پر مسلم لیگ (ن) نئے صوبوں پر مکمل خاموش ہے اور پی ٹی آئی سندھ نے بھی کسی حد تک سندھ کی تقسیم کی مخالفت سندھ اسمبلی میں دکھائی تھی اور ملکی سطح پر بھی تحریک انصاف مشروط طور پر نئے صوبوں کی حمایت کا عندیہ دے چکی ہے۔
سندھ اسمبلی واقعی اپنے خصوصی اجلاس میں سندھ کی تقسیم واضح طور مسترد کر چکی ہے اور پیپلز پارٹی بھی سندھ کی تقسیم کے سخت خلاف مگر پنجاب کی تقسیم کی زبردست حامی ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی تو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے نگران دور میں وزارت داخلہ چھوڑ کر پی پی میں شمولیت اختیار کی تھی مگر وہ مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔
بلاول بھٹو کے مطابق سندھ اسمبلی نے نئے صوبے کے معاملے پر فل اسٹاپ لگا دیا ہے۔ سندھ اسمبلی کا یہ فل اسٹاپ سندھ کی حد تک تو درست لگتا ہے مگر ماضی میں پنجاب اسمبلی اپنی قرارداد کے ذریعے جنوبی پنجاب اور بھاولپور صوبے کے قیام کا فیصلہ دے چکی ہے جس کی پیپلز پارٹی بھی حامی ہے اور سندھ کے علاوہ باقی صوبوں کی تقسیم پر پیپلز پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں مگر سندھ کی وحدت ہر حال میں برقرار رہنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
کے پی اسمبلی بھی صوبہ ہزارہ کے قیام کی قرارداد منظور کر چکی ہے اور پنجاب کی تقسیم اور جنوبی پنجاب صوبہ تحریک انصاف کا 2018 سے مطالبہ رہا ہے۔ سندھ اسمبلی کا فل اسٹاپ صرف سندھ کی حد تک ہے مگر اسے باقی تین صوبوں کی تقسیم اور اسلام آباد صوبے کے قیام پر بھی اعتراض نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جب چاہیں بلوچستان اسمبلی سے بلوچستان صوبے کی تقسیم کی قرارداد منظور کرا سکتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت جب چاہے گی وہ بھی قومی اسمبلی سے اسلام آباد صوبے کی قرارداد منظور کرا لے گی۔ بھاولپور اور جنوبی پنجاب صوبوں کی قرارداد کو وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ ماضی کا فیصلہ قرار دے چکے ہیں مگر پنجاب کی تقسیم کی پنجاب اسمبلی کی قرارداد اب تک موجود اور موثر ہے۔
پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم اور انتظامی یونٹس کے قیام کے صرف سندھ کی حد تک تو باب بند کر چکی ہے جس پر پیپلز پارٹی کا موقف کہ انتظامی یونٹس کے معاملے کو اب بند ہو جانا چاہیے کسی حد تک درست ہے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ اسمبلی کی اکثریت ملک بھر میں اپنا فیصلہ لاگو کرا سکتی ہے نہ پیپلز پارٹی کا فیصلہ ملک کے عوام کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔پیپلز پارٹی کے مطابق سندھ کے عوام اپنی قسمت کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں درست ہے مگر یہ حق تو باقی تین صوبوں کے عوام کو بھی حاصل ہے کہ وہ بھی اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں جو ان کا آئینی حق ہے۔
پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پنجاب اور کے پی اسمبلیاں جن نئے صوبوں کی قراردادیں منظور کر چکی ہیں پہلے ان پر عمل ہو اور پنجاب اور کے پی میں پہلے نئے صوبے بنا دینا چاہئیں مگر مسلم لیگ (ن) کبھی نہیں چاہے گی کہ پنجاب تقسیم ہو جائے اور سندھ تقسیم نہ ہو کیونکہ اس طرح پنجاب میں (ن) لیگ کا اقتدار محدود ہو جائے گا اور 18 سال سے برسر اقتدار سندھ کا اقتدار پیپلز پارٹی کے پاس برقرار رہے گا جس کی سندھ میں مسلسل چوتھی حکومت ہی نہیں بلکہ اندرون سندھ کی سیاست مکمل طور پر اس کے مرہون منت اور مکمل کنٹرول میں ہے اور پیپلز پارٹی کراچی میں وہ جگہ لے سکتی تھی جو پی ٹی آئی لے چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے بھی اپنے اقتدار میں پی پی اور (ن) لیگ کی طرح کچھ نہیں دیا تھا اور صرف اعلانات کیے تھے۔
اقتدار میں رہنے والی یہ تینوں جماعتیں کراچی سے کبھی مخلص تھی ہی نہیں مگر عمران خان کی شکل میں کراچی میں ایم کیو ایم کے حامیوں کو توڑا جا سکا تھا تو کراچی کے پیدائشی بلاول بھٹو بانی پی ٹی آئی کے مقابلے میں کراچی میں زیادہ مقبولیت حاصل کرکے اپنا شہری حلقوں میں ووٹ بڑھا سکتے تھے ۔ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کراچی کو نظرانداز کرنے کی پیپلز پارٹی سے جو شکایات ہیں ان پر اگر پیپلز پارٹی نے توجہ دی ہوتی اور ان کی جائز و اہم شکایات کا ازالہ کرایا ہوتا تو ایم کیو ایم کا ووٹ پیپلز پارٹی کو مل سکتا تھا مگر پیپلز پارٹی نے کراچی والوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کبھی کوشش کی ہی نہیں۔
کراچی کے دیہی علاقوں میں پی پی کا اور شہری علاقوں میں ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ہے اور پی پی قیادت اپنے سیاسی مفاد کے لیے ایم کیو ایم کے پاس جاتی رہی ہے مگر شہر کے مسائل، شہری آبادی سے ناانصافی و شکایات معلوم کرنے اگر پیپلز پارٹی کی قیادت ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے کبھی ملی ہوتی تو ایم کیو ایم انھیں بتاتی کہ سندھ حکومت کی کون سی پالیسیوں کے باعث کراچی صوبے، انتظامی یونٹس اور بااختیار مقامی حکومت کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں۔ کراچی کو اس کا حق اگر پی پی تسلیم کرلے تو سندھ میں سیاسی کشیدگی ختم ہو سکتی ہے اور کراچی میں پی پی مقبولیت حاصل کر سکتی ہے۔ سندھ اسمبلی اور حکومت کراچی سے دوری پر لگا فل اسٹاپ ختم کرکے سب سے یکساں اور میرٹ پر سلوک کرے تو کراچی میں صوبے یا انتظامی یونٹ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

