سیاست میں کچھ ہفتے بعض اوقات سالوں کی مسافت طے کر لیتے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتے یورپ اور امریکا کی سیاست میں کچھ ایسے ہی گزرے۔ سربیا میں طلبہ تحریک نے بالٓاخر انتخابی معرکے تک اپنے آپ کو منوایا اور انتخابات جیت لیے۔ طلبہ تحریک ایک پل گرنے کی وجہ سے ہوئی ہلاکتوں پر غم و غصے سے شروع ہوئی۔
برازیل میں دو روایتی حریفوں کے درمیان انتخابی دنگل بھی دنیا کا موضوع بنا رہا۔ پہلے راؤنڈ میں صدر لولا کا پلڑا ہلکا اور ان کے مخالف کا پلڑا قدر بھاری رہا۔ مخالف صدارتی امیدوار کے والد گزشتہ صدر تھے اور اس وقت کرپشن کے الزامات میں جیل میں ہیں۔ بیٹے نے باپ کے سیاسی ورثے کے لیے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنا وزن بھی ان کے پلڑے میں ڈالا تاہم دوسرے راؤنڈ میں حیرت انگیز طور پر صدر لولا جیت گئے۔ باپ کی طرح بیٹے پر بھی کرپشن کے الزامات تھے، سو راتوں رات ملک سے فرار ہو کر اب امریکا جا پہنچے ہیں۔
امریکا کے وسط مدتی انتخابات آخری چند روز میں رولر کوسٹر کے مراحل میں ہیں۔ ریپبلیکن پارٹی کے مخصوص علاقوں میں ڈیموکریٹک کا اثرونفوذ بڑھ رہا ہے، سیاسی پنڈتوں کا مختلف سرویز کے حوالے سے یہ کہنا ہے کہ شاید ریپبلکن کو کانگریس میں اپنی برتری سے ہاتھ دھونے پڑیں۔
صدر ٹرمپ جی جان سے زور لگا رہے ہیں، بڑے ڈونرز کھلے دل سے پیسہ پھینک رہے ہیں لیکن عوام ہیں کہ انھیں مہنگائی اور کرپشن کی ٹیسیں چین نہیں لینے دیتی اور وہ اپنی بے چینی ووٹ کی صورت میں ظاہر کرنے پر تلے نظر آتے ہیں۔
دیکھئے اگلے ہفتے بیلٹ سے کیا ظہور میں آتا ہے۔ اگر ریپبلیکن اپنی اکثریت کھو بیٹھتے ہیں تو اگلے دو سال صدر ٹرمپ کی صدارت کو بے شمار مسائل درپیش ہوں گے۔ جو شاہانہ انداز گزشتہ دو سالہ دور میں رہا، بقیہ دو سال بچنے بچانے میں گزریں شاید۔
ان تینوں ممالک میں دائیں بازو کی سیاست تمام تر قوت اور مہارت کے باوجود عوام کی بے چینی اور ناراضگی کا شکار ہے۔ یورپ میں فرانس میں طلبہ مظاہرے اسکول فیسوں، اسکولوں کی ناکافی سہولتوں اور اساتذہ کی کمی کی بنا پر شروع ہوئے لیکن جلد ہی ان مظاہروں میں لیبر یونین اور دیگر سول سوسائٹی دھڑے شامل ہوتے گئے۔
مظاہرین کی ڈیمانڈز میں تبدیلی آگئی، سارا زور مہنگائی، ناقابل برداشت رہائشی کرائے اور سکڑتے ہوئے روزگار کے مواقع پر آن کھڑا ہوا۔ نہ صرف فرانس بلکہ جلد ہی مظاہرے بلجیم، اٹلی، اسپین، جرمنی اور البانیہ سمیت کئی ممالک میں پھیل گئے۔
ان تمام ممالک میں کم وبیش دائیں بازو کی حکومتیں قائم ہیں اور مدتوں سے مارکیٹ بیسڈ نیو لبرل معاشی نظام زیرعمل ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں یہ احساس پختہ ہو رہا ہے کہ اس معاشی نظام میں دولت کا ارتکاز اشرافیہ کے ہاں ہو رہا ہے لیکن عوام کے شب وروز ناقابل برداشت مصائب کا شکار ہیں۔ میڈیا ان مظاہروں کو کچھ اس انداز میں دیکھ رہا ہے جیسے یہ سب کچھ وقتی ہو لیکن ایسا ہے نہیں۔
عالمی میڈیا اسے محض وقتی مہنگائی یا تعلیمی بجٹ پر ایک عارضی ردعمل کے طور پر پیش کر رہا ہے لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ اور گہری ہے۔ متبادل معاشی افکار رکھنے والے سنجیدہ مفکرین ان حالات کو کسی وقتی بحران کے طور پر نہیں دیکھ رہے، ان کا ماننا ہے کہ یہ گزشتہ چالیس برسوں سے جاری اس معاشی سفر کا منطقی انجام ہے جس کی بنیاد 1980ء کی دہائی میں رکھی گئی تھی۔ یہ احتجاج دراصل اس سماجی معاہدے کا نوحہ ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان دہائیوں پہلے ٹوٹ چکا تھا۔
اس سٹرکچرل خرابی کو سمجھنے کے لیے ہمیں ستر اور اسی کی دہائی کے اس فکری موڑ پر جانا ہوگا جب دنیا بھر میں ایک خاص معاشی فلسفے کو ’واحد سچ‘ بنا کر پیش کیا گیا۔
مارگریٹ تھیچر اور رونالڈ ریگن کے دورِ اقتدار میں جس نیو لبرل معاشی ایجنڈے کو فروغ ملا، اس کا بنیادی نعرہ یہ تھا کہ ریاست کو معاشی معاملات سے دور ہو جانا چاہیے اور مارکیٹ کو مکمل طور پر آزاد چھوڑ دینا چاہیے۔ اس فلسفے کے تحت پبلک سیکٹر کی نجکاری کی گئی، بڑی کارپوریشنز کو ٹیکسوں میں بے پناہ چھوٹ دی گئی اور لیبر یونینز کو کمزور کیا گیا۔
اس دور کے معاشی پنڈتوں کا دعویٰ تھا کہ جب امیر طبقہ مزید امیر ہوگا تو اس کے ثمرات نیچے تک پہنچیں گے لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ یہ ثمرات اوپر ہی جم کر رہ گئے اور نچلے طبقے تک صرف معاشی عدم تحفظ پہنچا۔ جوزف اسٹگلٹز جیسے نوبل انعام یافتہ ماہرینِ معاشیات نے برسوں پہلے خبردار کر دیا تھا کہ مارکیٹ کو قانون اور اخلاقیات سے آزاد کرنے کا انجام ہمیشہ سماجی ناہمواری کی شکل میں نکلتا ہے۔
آج کے یورپی نوجوانوں میں پائے جانے والے شدید احساسِ محرومی اور غصے کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے کیونکہ وہ تاریخ کی پہلی ایسی نسل بن چکے ہیں جو اپنے والدین کے مقابلے میں زیادہ غریب اور غیر محفوظ ہے۔
اگر ہم یورپ کے اس بحران اور معاشی ناہمواری کے آئینے میں پاکستان کے موجودہ معاشی وسیاسی چیلنجز کو دیکھیں، تو ہمیں ایک دلچسپ مماثلت نظر آتی ہے۔ پاکستان اس وقت جس معاشی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، وہ بھی اسی نیو لبرل ایجنڈے اور آئی ایم ایف کی سخت ترین ساختی اصلاحات (Structural Adjustments) کا نتیجہ ہے جو ہم پر دہائیوں سے مسلط ہیں۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع اور دیگر سیاسی اور سماجی مسائل اس امر کے متقاضی ہیں کہ جلد سے جلد سیاسی، معاشی اور انتظامی حالات کی سنگینی کا اشرافیہ جائزہ لے ، سیاسی اور معاشی نظام میں عوام کی فلاح اور تکالیف دور کرنے کا ٹھوس اقدام اٹھائیں ورنہ مہنگائی اور بے چینی کا لاوا کہیں نہ کہیں ظاہر ہو سکتا ہے۔

