اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک کی اتوار کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اکتوبر کے دوران ’دہشت گرد حملوں‘ میں 37 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ سکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
پاکستان حالیہ مہینوں میں افغانستان سے ملحقہ دونوں صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندی کا سامنا کر رہا ہے۔
2021 میں افغان طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان صوبوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند پاکستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان یہ الزام بھی عائد کرتا ہے کہ ان گروہوں کو افغان حکومت کی سہولت کاری حاصل ہے، تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران ملک بھر میں ’دہشت گردی کے‘ 143 واقعات پیش آئے جبکہ ستمبر میں ان کی تعداد 226 تھی۔
پی آئی سی ایس ایس نے کہا ’اکتوبر 2026 کے دوران پاکستان میں سکیورٹی کے کئی اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
’ستمبر کے مقابلے میں دہشت گرد حملوں میں 37 فیصد، ان کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں 57 فیصد جبکہ زخمیوں کی تعداد میں 71 فیصد کمی آئی۔‘
پی آئی سی ایس ایس کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں ’دہشت گرد حملوں‘ کے نتیجے میں 111 افراد جان سے گئے جبکہ ستمبر میں یہ تعداد 260 تھی، یعنی 57 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
تھنک ٹینک کے مطابق ان حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اس سے بھی زیادہ کمی آئی اور یہ ستمبر میں 242 کے مقابلے میں اکتوبر کے دوران صرف 69 رہ گئی، جو 71 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اکتوبر کے دوران دہشت گرد حملوں اور سکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 272 افراد جان سے گئے جبکہ 71 زخمی ہوئے۔
جان سے جانے والوں میں سکیورٹی فورسز کے 53 اہلکار، امن کمیٹیوں کے پانچ ارکان، 45 شہری اور 169 عسکریت پسند شامل تھے۔
زخمیوں میں سکیورٹی فورسز کے 29 اہلکار، امن کمیٹیوں کے 11 ارکان اور 31 عام شہری شامل ہیں۔
پی آئی سی ایس ایس نے کہا ’اکتوبر کے دوران خودکش حملوں میں نمایاں کمی آئی اور تھنک ٹینک نے اس ماہ صرف ایک ایسا واقعہ ریکارڈ کیا جبکہ ستمبر میں تین خودکش حملے ہوئے تھے۔‘
رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں ہونے والے واحد خودکش حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا۔
اس کے برعکس ستمبر میں ریکارڈ کیے گئے تین خودکش حملوں، جن میں دو گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے حملے بھی شامل تھے، کے نتیجے میں 45 افراد جان سے گئے جبکہ 138 زخمی ہوئے تھے۔
انسداد دہشت گردی کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں کارروائیاں جاری رکھیں۔
پی آئی سی ایس ایس کے مطابق اکتوبر کے دوران ان کارروائیوں میں 156 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ سات مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا۔
ان کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار اور تین عام شہری جان سے گئے جبکہ فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔
بلوچستان میں حملوں کی تعداد میں 46 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں ستمبر کے 132 کے مقابلے میں اکتوبر میں 71 حملے ہوئے۔
ان حملوں میں جان سے جانے والوں کی تعداد 136 سے کم ہو کر 44 رہ گئی، جو تقریباً 68 فیصد کمی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 63 سے کم ہو کر 37 ہو گئی یعنی 41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
علاوہ ازیں بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں 79 عسکریت پسند مارے گئے۔
ان کارروائیوں کے دوران تین عام شہری جان سے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو شمار کیے بغیر خیبر پختونخوا میں بھی سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
پی آئی سی ایس ایس نے اکتوبر میں ’دہشت گردی کے‘ 40 واقعات ریکارڈ کیے جبکہ ستمبر میں یہ تعداد 58 تھی، یعنی 31 فیصد کمی ہوئی۔
ان حملوں میں جان سے جانے والوں کی تعداد 90 سے کم ہو کر 38 رہ گئی، جو تقریباً 58 فیصد کمی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 165 سے کم ہو کر 19 ہو گئی، یعنی 88 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس علاقے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران 42 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار جان سے گئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اکتوبر کے دوران پنجاب میں ’دہشت گردی کے‘ دو واقعات پیش آئے جبکہ ستمبر میں کوئی ایسا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
ان واقعات میں چار افراد جان سے گئے تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔ سندھ میں اس ماہ کوئی حملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
مجموعی طور پر سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کے باوجود رپورٹ میں اغوا کی وارداتوں کو، خصوصاً بلوچستان میں، سکیورٹی کے حوالے سے ایک ’سنگین‘ تشویش قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ’پی آئی سی ایس ایس نے اکتوبر کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں 88 افراد کے اغوا ہونے کی نشاندہی کی جبکہ ستمبر میں یہ تعداد 72 تھی یعنی 22 فیصد اضافہ ہوا۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا ’یہ گذشتہ 12 ماہ کے دوران کسی ایک مہینے میں اغوا ہونے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔‘
پاکستان خیبر پختونخوا، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں باقاعدگی سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے۔
فوج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی آپریشنز جاری رکھے جائیں گے۔


