صوفیہ: بلغاریہ کے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں قائم مقام صدر الیانا یوتووا نے اپنے مغرب نواز حریف آندرے گیوروف کے مقابلے میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ ایگزٹ پولز اور متوازی ووٹ گنتی کے نتائج کے مطابق یوتووا کو 56.6 سے 58.2 فیصد ووٹ ملنے کا اندازہ ہے، جبکہ گیوروف کو 38.6 سے 40.6 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
یوتووا نے اتوار کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں 57.6 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ سابق قائم مقام وزیراعظم آندرے گیوروف کو 39.5 فیصد ووٹ ملے۔ گیوروف نے صوفیہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نتائج قبول کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ انتخابی مہم ختم ہونے کے باوجود ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔
بلغاریہ کی سوشلسٹ پارٹی سے وابستہ یوتووا نے پہلے مرحلے میں 34.6 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، جبکہ گیوروف 32 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ چونکہ کسی بھی امیدوار کو اکثریت حاصل نہ ہوئی، اس لیے دوسرا مرحلہ ہوا۔
یوتووا کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ یوکرین کو مزید فوجی امداد فراہم نہ کرنا اور روس کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تنازعے کا حل تھا۔ اس کے برعکس، گیوروف نے یوکرین کی حمایت، یورپی یونین اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات اور ملک کی سلامتی کی پالیسیوں میں اصلاحات کی وکالت کی تھی۔
یوتووا اس سے قبل سابق صدر رومین رادیف کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔ رادیف کے جنوری میں استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کی کامیابی کے ساتھ وہ بلغاریہ کی پہلی منتخب خاتون صدر بننے والی ہیں۔
انتخابی مہم میں یوکرین جنگ، یورپی سلامتی اور بلغاریہ کے مغربی اتحادیوں سے تعلقات اہم موضوعات رہے۔ گیوروف نے الزام لگایا تھا کہ حکومت کی پالیسیوں نے ملک کو یورپی اتحاد کے مشرقی محاذ پر کمزور کر دیا ہے۔

