امریکی کانگریس کا کنٹرول تین نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کا سب سے بڑا ہدف ہے، جہاں ڈیموکریٹس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت سے کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ان انتخابات میں 50 میں سے 36 ریاستوں کے ووٹرز اپنے گورنرز کا انتخاب بھی کریں گے، جب کہ تقریباً تمام ریاستوں میں ریاستی قانون ساز اداروں کے انتخابات بھی ہوں گے۔
انتخابات کے دن سے پہلے کئی ہفتوں سے ووٹ ڈالنے کا عمل جاری ہے اور ملک بھر میں قبل از وقت ووٹنگ ہو رہی ہے۔
وسط مدتی انتخابات ہر چار سالہ صدارتی مدت کے درمیان میں منعقد ہوتے ہیں اور قانون کے مطابق ان میں صدر خود امیدوار نہیں ہوتا۔
تاہم جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سال کے انتخابات میں کوئی خاص دلچسپی یا اہمیت نہیں، انہیں دو اعداد و شمار پر غور کرنا چاہیے۔
اگر ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 2022 کے گذشتہ وسط مدتی انتخابات جیسا رہا تو اس سال 10 کروڑ سے زیادہ افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ 30 اکتوبر تک 2025-26 کے انتخابی دورانیے میں سیاسی اشتہارات پر ریکارڈ 11 ارب 60 کروڑ ڈالر خرچ کیے جا چکے تھے۔
سیاسی اشتہارات پر اخراجات کی نگرانی کرنے والے ادارے ایڈ امپیکٹ کے مطابق سب سے زیادہ رقم امریکی سینیٹ کے ان انتخابی مقابلوں پر خرچ کی جا رہی ہے جو ٹیکساس، اوہائیو اور مشی گن جیسی فیصلہ کن ریاستوں میں ہو رہے ہیں۔
کانگریس پر کنٹرول
انتخابی مالیاتی ریکارڈ کے مطابق ایلون مسک نے اکیلے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر خرچ کیے ہیں۔
وسط مدتی انتخابات میں عموماً صدارتی انتخابات کے مقابلے میں کم ووٹرز حصہ لیتے ہیں کیوں کہ صدارتی انتخابات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر 2024 کے صدارتی انتخابات میں 15 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے تھے۔
ایوان نمائندگان میں اس وقت ریپبلکن جماعت کو 218 کے مقابلے میں 214 نشستوں کی برتری حاصل ہے، جب کہ دو نشستیں خالی ہیں اور ایک آزاد رکن بھی ہے جو ریپبلکنز کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔
ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو موجودہ صورت حال کے مقابلے میں کم از کم چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔
کیا وسط مدتی انتخابات صدارتی مدت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟
سینیٹ کا کنٹرول بھی ان انتخابات میں داؤ پر لگا ہے، جہاں ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے۔
ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بھی اپنی نشستوں میں خالص چار کا اضافہ کرنا ہوگا۔
مائن، اوہائیو، نارتھ کیرولائنا، آئیووا اور جارجیا سمیت 10 ریاستوں میں ہونے والے انتخابی مقابلے سینیٹ کے حتمی نتائج کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
روئٹرز اور آئی۔پسوس کے ستمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر مقبولیت کی شرح کم ہو کر 32 فیصد کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
رائے عامہ کے جائزے کیا بتا رہے ہیں؟
ملک کے اندرونی مسائل، خصوصاً اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، کئی انتخابی مقابلوں کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اور ریپبلکنز کی حمایت میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔
شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال ریپبلکنز کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کے ووٹ ڈالنے کے لیے زیادہ پرجوش ہونے کا امکان ہے۔
اگر قبل از وقت ووٹنگ کے رجحانات برقرار رہے تو یہ نومبر میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کی جانب اشارہ ہو سکتا ہے۔
ایسے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں کہ لاطینی امریکی نژاد ووٹرز، جنہوں نے 2024 میں ٹرمپ کی حمایت کی تھی، معیشت اور ان کی انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر ناراضی کے باعث دوبارہ ڈیموکریٹس کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
تاہم ڈیموکریٹس کی بھاری اکثریت سے کامیابی یقینی نہیں ہے۔
ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس کے بارے میں ووٹرز کے مسلسل شکوک، انتخابی مہمات میں ریپبلکنز کے زیادہ اخراجات اور بائیں بازو کے امیدواروں کی بعض پرائمری انتخابات میں کامیابی کے باعث اعتدال پسند ووٹرز میں پیدا ہونے والے خدشات سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
وسط مدتی انتخابات عموماً اس سیاسی جماعت کے لیے مشکل ثابت ہوتے ہیں جس کے پاس وائٹ ہاؤس اور یا کانگریس کا کنٹرول ہو۔
2026 کے انتخابات میں اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن جماعت، جو اس وقت امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں کا کنٹرول رکھتی ہے، سیاسی طور پر مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔
وسط مدتی انتخابات کی حالیہ تاریخ
وسط مدتی انتخابات ووٹرز کے لیے صدر کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا ایک موقع ہوتے ہیں اور اگر صدر کی جماعت کو کم ووٹس ملیں تو اس کے نتیجے میں وائٹ ہاؤس کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں بھی کرنا پڑ سکتی ہیں۔
ان انتخابات کے نتائج آئندہ صدارتی انتخابات کے ممکنہ امیدواروں کو بھی یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ انہیں ووٹرز تک اپنا پیغام کس طرح پہنچانا چاہیے۔ اس بار اگلے صدارتی انتخابات 2028 میں ہوں گے۔
حالیہ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج سیاسی منظرنامے پر کس قدر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
2010 کے وسط مدتی انتخابات میں، جب براک اوباما صدر اور ڈیموکریٹس کی حکومت تھی، ریپبلکنز نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔
اس وقت امریکہ کی معیشت توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہی تھی اور اوباما کی جانب سے صحت کے شعبے میں متعارف کرائی گئی اہم اصلاحات کے لیے عوامی حمایت بھی کمزور تھی۔ ان حالات میں ریپبلکنز نے ایوان نمائندگان میں 63 اضافی نشستیں حاصل کر لیں۔
اس طرح ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں اپنی اکثریت کھو بیٹھے۔
سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس نے چھ نشستیں کھونے کے باوجود اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔
اوباما نے اس وقت ریپبلکنز کی اس کامیابی کو ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا تھا۔
بعد ازاں انہیں ریپبلکنز کی جانب سے دفاع کے علاوہ دیگر شعبوں کے اخراجات میں نمایاں کمی کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایوان نمائندگان کا سپیکر کون ہوگا؟
2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں ڈیموکریٹس نے بھی ریپبلکنز کو اسی طرح کا سیاسی دھچکا دیا۔
انہوں نے ایوان نمائندگان میں خالص 40 نشستیں حاصل کیں، تاہم سینیٹ میں انہیں خالص دو نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔
ریاستی سطح پر انتخابی اعداد و شمار کے ادارے بیلٹ پیڈیا کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ریاستی قانون ساز اداروں کی 55 فیصد نشستیں ریپبلکنز کے پاس ہیں، جب کہ ڈیموکریٹس کے پاس 43.8 فیصد نشستیں ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس حکیم جیفریز کے اگلے سپیکر بننے کا امکان ہے۔
حکیم جیفریز اس وقت ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے رہنما ہیں۔
اگر وہ سپیکر منتخب ہوئے تو وہ اس اہم عہدے پر فائز ہونے والے پہلے سیاہ فام امریکی ہوں گے۔ نائب صدر کے بعد سپیکر امریکی صدارت کے منصب کی جانشینی میں دوسرے نمبر پر ہوتا ہے۔
سپیکر کی حیثیت سے حکیم جیفریز ایوان نمائندگان کی مختلف کمیٹیوں کو صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھیوں کی متنازع سرگرمیوں کی تحقیقات کی ہدایت دے سکیں گے۔
اہم انتخابی مقابلے
حکیم جیفریز متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ہونے والی ان سرگرمیوں کی تحقیقات کریں گے جنہیں وہ بدعنوانی کی غیر معمولی سطح قرار دیتے ہیں۔
سپیکر منتخب ہونے کی صورت میں جیفریز ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی قانون سازی کی ترجیحات کو آگے بڑھانے میں بھی کردار ادا کریں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس صحت کی سہولیات، اشیائے خورونوش، رہائش، توانائی اور دیگر اخراجات کو عوام کی پہنچ میں رکھنے پر توجہ دیں گے۔
دوسری جانب اگر ریپبلکنز کامیاب ہوتے ہیں تو سپیکر کا عہدہ اسی جماعت کے پاس برقرار رہے گا۔ اس صورت میں موجودہ سپیکر مائیک جانسن اس عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں یا اگر انہیں چیلنج کیا گیا تو کامیاب ہونے والا کوئی دوسرا ریپبلکن رکن یہ ذمہ داری سنبھال سکتا ہے۔
ریپبلکنز کی ترجیحات میں مزید ٹیکسوں میں کمی، دفاعی اخراجات میں بڑے پیمانے پر اضافہ اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کے اخراجات میں مزید کمی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ اقدامات ٹرمپ کے 2025 کے قانون ’ون بگ بیوٹی فل بل‘ کے تسلسل میں ہوں گے۔
ایوان نمائندگان کے جن انتخابی مقابلوں پر سب سے زیادہ نظر رکھی جا رہی ہے، ان میں نیویارک کے ایک انتخابی حلقے سے ریپبلکن رکن کانگریس مائیک لالر کی دوبارہ انتخاب کی کوشش بھی شامل ہے۔ اس حلقے میں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس نے کامیابی حاصل کی تھی۔
نیبراسکا کے ایک ایسے حلقے میں بھی مقابلہ توجہ کا مرکز ہے جہاں کوئی موجودہ رکن دوبارہ انتخاب نہیں لڑ رہا۔ اس علاقے کے کسانوں اور ٹرک ڈرائیوروں کو ایران کے خلاف امریکی جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سامنا ہے۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے ریپبلکنز سے چھیننے کے لیے ہدف بنائی گئی ایوان نمائندگان کی نشستوں میں پنسلوانیا کی دو اور نیو جرسی کی ایک نشست بھی شامل ہے۔
ان تمام انتخابی مقابلوں کے دوران یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے کہ آیا صدر ٹرمپ انتخابات میں مداخلت کی کوشش کریں گے یا نہیں، جب کہ امریکی انتخابات کا انتظام ملک کی 50 ریاستوں کے الگ الگ حکام کرتے ہیں۔
2020 کے بعد سے ٹرمپ بارہا امریکی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔
ریاستی انتخابی حکام اور کانگریس میں ڈیموکریٹس کسی بھی ایسی کوشش کے خلاف ممکنہ قانونی چیلنجز کی تیاری کر رہے ہیں جس کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ انتخابات کے عمل میں مداخلت کر سکتی ہے۔
نتائج کب تک متوقع ہیں؟
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہے۔
جن حلقوں میں مقابلہ انتہائی سخت ہو گا وہاں کامیاب امیدواروں کا اعلان کئی دن یا حتیٰ کہ کئی ہفتوں تک مؤخر ہو سکتا ہے۔
ابتدائی نتائج کے اعلانات منگل کی شب امریکہ میں پولنگ اسٹیشنز بند ہونا شروع ہونے کے بعد متوقع ہیں۔
سب سے پہلے مشرقی وقت کے مطابق شام چھ بجے (گرینچ معیاری وقت کے مطابق رات 11 بجے) انڈیانا اور کینٹکی میں پولنگ ختم ہوگی۔
اس کے بعد شام سات بجے جارجیا، ساؤتھ کیرولائنا، ورمونٹ اور ورجینیا میں پولنگ کا وقت ختم ہو جائے گا، جو گرینچ معیاری وقت کے مطابق 4 نومبر کو رات 12 بجے ہوگا۔
سب سے آخر میں امریکہ کی انتہائی مغربی ریاست الاسکا کے پولنگ اسٹیشنز مشرقی وقت کے مطابق بدھ کی صبح ایک بجے بند ہوں گے۔

