امریکا میں انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جبکہ کئی رہنماؤں نے اپنی نشستوں کا کامیابی سے دفاع کرلیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر ریاست ورجینیا سے امریکی سینیٹ کے لیے دوبارہ منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دے کر ایوانِ بالا میں اپنی چوتھی مدت حاصل کرلی۔
فلوریڈا کے 20ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما ڈیبی واسرمین شلٹز نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔ انہوں نے اپنے ریپبلکن حریف برینٹ اینڈرسن کو شکست دے کر ایوانِ زیریں میں اپنی نشست برقرار رکھی۔
اسی طرح ریاست کینٹکی کے تیسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما مورگن میک گاروی نے بھی امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔
ریاست جارجیا کے 13ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک امیدوار جیسمین کلارک نے کامیابی حاصل کرکے ایوانِ نمائندگان کی نشست اپنے نام کرلی۔
نیکیما ولیمز جارجیا کے 5 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے دوبارہ منتخب ہوگئے امریکی میڈیا کے مطابق نیکیما ولیمز نے ریپبلکن حریف جان سالویسن کو شکست دی۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ الیگزینڈرو فراسٹ فلوریڈا کے دسویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے بلا مقابلہ دوبارہ منتخب ہوگئے۔
جبکہ ڈیموکریٹ رہنما لوئس فرینکل فلوریڈا کے 23 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے کامیاب ہوکر دوبارہ ایوانِ نمائندگان کے لیے دوبارہ منتخب ہوگئے۔
ڈیموکریٹک رہنما لوسی میک باتھ نے جارجیا کے چھٹے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے امریکی میڈیا کے مطابق لوسی میک باتھ نے اپنے ریپبلکن حریف کیون ای مارٹن کو شکست دے کر ایوانِ زیریں میں اپنی نشست کا کامیابی سے دفاع کیا۔
ریپبلکن رکنِ کانگریس ہال راجرز نے بھی کینٹکی کے 5 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد کانگریس کے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں میں جماعتوں کی پوزیشن مزید واضح ہوگی۔

