انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، جی ایس پی پلس اسٹیٹس کوخطرات لاحق

gsp plus1793746972 0



اسلام آباد:

پاکستان کیلیے یورپی یونین کی جانب سے حاصل جی ایس پی پلس تجارتی سہولت انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث خطرے میں پڑنے کاخدشہ پیداہوگیاہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سید نویدقمر نے خبردارکیاہے کہ انسانی حقوق کے معاملات پر پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے منفی اشارے مل رہے ہیں، تاہم حکومت نے کسی فوری خطرے کی تردیدکی ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سید نوید قمر نے کہاکہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ انسانی حقوق کے مسائل کے باعث پاکستان کاجی ایس پی پلس اسٹیٹس مشکلات کاشکار ہوسکتاہے۔

انہوں نے اس ممکنہ خطرے کی تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم یورپی یونین کی تازہ مانیٹرنگ رپورٹ میں انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں، عدالتی نظام کی کمزوری اورآزادی اظہار پر متعددتحفظات سامنے آئے ہیں۔

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال کیانی نے کمیٹی کو بتایاکہ جی ایس پی پلس اسکیم دسمبر 2028 تک جاری رہے گی،جبکہ جنوری 2029 سے شروع ہونیوالی نئی اسکیم کیلیے درخواست تیارکرنے کی غرض سے نائب وزیراعظم کی سربراہی میں کمیٹی کام کر رہی ہے۔

یورپی یونین کی پانچویں جی ایس پی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس تجارتی سہولت سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہے اور 2024 میں پاکستان نے ترجیحی ٹیرف کے تحت یورپی یونین کو 7۔5 ارب یوروکی برآمدات کیں۔

رپورٹ میں کہاگیاہے کہ پاکستان کوجبری گمشدگیوں اورآزادی اظہارکی خلاف ورزیوں کے حوالے سے منفی رجحانات روکنے کیلیے ٹھوس اقدامات کرناہونگے۔

یورپی یونین نے توہین مذہب،سائبرکرائم، ہتک عزت، انسداددہشتگردی اور بغاوت سے متعلق قوانین میں ترمیم یا انہیں ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیاہے۔

رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران پاکستان کوجی ایس پی پلس کی ذمہ داریوں پر عمل درآمدمیں مشکلات کاسامنارہااور متعددشعبوں میں پیش رفت کے بجائے تنزلی دیکھنے میں آئی،جبکہ مثبت تبدیلی محدودرہی۔

یورپی یونین نے مستقبل کیلیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتساب، تشددکے خاتمے،جیلوں میں اصلاحات،سزائے موت کے معاملات میں بہتری اور جبری گمشدگیوں و آزادی اظہارسے متعلق منفی رجحانات روکنے کو اہم ترجیحات قراردیاہے۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں کی بندش اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی برآمدات پر اس کے اثرات کامعاملہ بھی اٹھایا۔

بلال کیانی نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت متاثر ہوئی ہے، تاہم قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت سرحدیں بندکی گئیں۔ قائمہ کمیٹی نے تاجروں کیلیے متعارف کرائی گئی فکسڈ ٹیکس اسکیم کی ناکامی پر بھی مایوسی کااظہارکیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ