امریکی خلا بازوں نے خلائی اسٹیشن سے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا
خلا سے ووٹ ڈالنے کی سہولت 1997 سے موجود ہے
امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے زمین پر موجود ہونا ضروری نہیں، ناسا کے تین خلا بازوں نے ہزاروں میل دور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرکے سب کو حیران کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ناسا کے خلا باز انیل مینن، لیوک ڈیلینی اور جیسیکا واٹکنز نے 3 نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات میں خلائی اسٹیشن سے الیکٹرانک ووٹ کاسٹ کیا۔
خلا باز انیل مینن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ تینوں امریکی خلا بازوں نے خلائی اسٹیشن سے ووٹ ڈالنے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے الیکٹرانک بیلٹ فارم پُر کرکے محفوظ طریقے سے انتخابی حکام کو بھیج دیا۔
انہوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں اپنے ووٹ ڈالنے کی جگہ دکھائی۔ مینن کے مطابق خلائی اسٹیشن میں ان کا ذاتی کمرہ ہی ان کا پولنگ بوتھ بنا، جہاں موجود کمپیوٹر کے ذریعے انہوں نے اپنا ووٹ ٹیکساس کے ہیرس کاؤنٹی کے انتخابی حکام کو ارسال کیا۔
امریکی خلا باز عموماً ٹیکساس کی ہیرس کاؤنٹی میں بطور ووٹر رجسٹر ہوتے ہیں، جہاں ناسا کا جانسن اسپیس سینٹر واقع ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خلا سے ووٹ ڈالنے کی سہولت 1997 سے موجود ہے، جب امریکی ریاست ٹیکساس نے اس مقصد کے لیے قانون منظور کیا تھا۔
اسی سال ناسا کے خلا باز ڈیوڈ وولف نے روس کے میر خلائی اسٹیشن سے تاریخ کا پہلا خلائی ووٹ کاسٹ کیا تھا، جبکہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہلا عملہ نومبر 2000 میں پہنچا تھا۔

