گزشتہ 22 ماہ میں غائب ادویات کا 80 فیصد اسٹاک بحال: پی پی ایم اے
کراچی/اسلام آباد (10 فروری 2026) – پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے بتایا ہے کہ ادویات کی قیمتوں پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے اور ڈی ریگولیشن کے فیصلے کے نتیجے میں مارکیٹ میں ادویات کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
پی پی ایم اے کے مطابق گزشتہ 22 ماہ کے دوران مارکیٹ سے غائب ہونے والی ادویات میں سے تقریباً 80 فیصد اب دوبارہ دستیاب ہو چکی ہیں۔ یہ ادویات مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی اہم اور ضروری دوائیں شامل ہیں جن کی قلت سے مریضوں اور ہسپتالوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
پی پی ایم اے کے عہدیدار نے کہا:
"ڈی ریگولیشن کے فیصلے نے صنعت کو پیداوار بڑھانے اور سپلائی چین کو بحال کرنے کا موقع دیا۔ نتیجتاً گزشتہ تقریباً دو سال میں مارکیٹ سے غائب 80 فیصد ادویات واپس آ گئی ہیں۔ یہ نہ صرف مریضوں کے لیے بہت بڑی راحت ہے بلکہ ہسپتالوں اور فارمیسیوں کے لیے بھی سپلائی کا بحران کم ہوا ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ باقی 20 فیصد ادویات میں سے بیشتر کے حوالے سے بھی مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور ان کی پیداوار اور درآمد کے عمل میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر کینسر، دل، شوگر، اینٹی بائیوٹکس اور دیگر دائمی امراض کی ادویات کی دستیابی میں بہتری آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کی آزادانہ پالیسی نے نہ صرف پیداواری لاگت کو پورا کرنے میں مدد دی بلکہ مینوفیکچررز کو خام مال کی بروقت درآمد اور نئی پیداواری یونٹس لگانے کی طرف بھی راغب کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملکی فارما انڈسٹری ایک بار پھر استحکام کی طرف گامزن ہے۔

