2025 میں فارماسیوٹیکل برآمدات میں 34 فیصد اضافہ، پی پی ایم اے
کراچی/اسلام آباد (10 فروری 2026) – پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سینئر وائس چیئرمین نے کہا ہے کہ ادویات کی قیمتوں پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے اور ڈی ریگولیشن کے فیصلے نے ملکی فارما انڈسٹری کو شدید بحران سے نکال دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال یعنی 2025 میں پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات میں تقریباً 34 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ چند برسوں میں انڈسٹری کو درپیش شدید چیلنجز کے بعد ایک مثبت پیش رفت ہے۔
سینئر وائس چیئرمین پی پی ایم اے نے کہا:
"قیمتوں پر غیر حقیقی کنٹرولز نے انڈسٹری کو شدید مالی دباؤ میں ڈال دیا تھا، جس سے خام مال کی درآمد، پیداوار اور ادویات کی دستیابی متاثر ہو رہی تھی۔ حکومت کے ڈی ریگولیشن کے فیصلے نے نہ صرف انڈسٹری کو سانس لینے کا موقع دیا بلکہ برآمدات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں فارما برآمدات میں 34 فیصد اضافہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آزادانہ قیمتوں کا نظام صنعت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس اضافے سے نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ ہو رہا ہے بلکہ پاکستان عالمی منڈی میں ایک قابلِ اعتماد ادویات برآمد کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ برآمدات کے اس مثبت رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے خام مال کی درآمد پر ٹیکسز میں مزید رعایت، بجلی اور گیس کی سستی فراہمی اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے لیے سہولیات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ڈی ریگولیشن کے بعد فارما سیکٹر میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اگلے چند سالوں میں برآمدات کا حجم مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

