امریکی انتخابات میں ریپبلکنز کو بڑا دھچکا، پارٹی رہنماؤں نے شکست کا ذمہ دار صدرٹرمپ کو ٹھہرا دیا

news 1793772704 7248



news 1793772704 7248

(24نیوز)امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بڑے انتخابی دھچکے کا سامنا ہے  جبکہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے ایک بڑا سیاسی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، کینساس، اوہائیو اور جنوبی کیرولائنا سمیت ان ریاستوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں جہاں دو سال قبل ٹرمپ نے نسبتاً آسانی سے کامیابی حاصل کی تھی،اس کے علاوہ آئیووا میں بھی ڈیموکریٹس نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔

انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ریپبلکن پارٹی کے کئی رہنماؤں اور سیاسی حکمتِ عملی کے ماہرین نے شکست کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر ڈالنا شروع کردی ہے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے کہا کہ اس شکست کی ذمہ داری مکمل طور پر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے اور یہ دراصل امریکی صدر کو مسترد کیے جانے کا نتیجہ ہے۔

ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر گریگ پیپن نے بھی پارٹی کی انتخابی مہم کو غلطیوں کا مجموعہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ریاستوں میں ووٹروں نے صدر کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی عوام نے جنگ کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا:ایرانی سپیکر کا الیکشن نتائج پر ردعمل

ریپبلکن رہنماؤں کے مطابق ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، ان کی بعض غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی سے متعلق عوامی تشویش کو کم اہمیت دینے کے رویے نے پارٹی کی انتخابی کارکردگی کو متاثر کیا۔

ابتدا میں ریپبلکنز کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونے کا خدشہ تھا، تاہم انہیں امید تھی کہ سینیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں گے۔ اب انتخابی رجحانات دونوں ایوانوں میں اکثریت کھونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو 45 نشستوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ ری پبلیکین نے 36 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ 218 نشستوں والے ایوان نمائندگان میں ابتدائی نتائج کے مطابق 113 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور 62 پر ری پبلیکنز نے کامیابی حاصل کی ہے۔

ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر ریاست ورجینیا سے امریکی سینیٹ کے لیے دوبارہ منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دے کر ایوانِ بالا میں اپنی چوتھی مدت حاصل کرلی۔

فلوریڈا کے 20ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما ڈیبی واسرمین شلٹز نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔ انہوں نے اپنے ریپبلکن حریف برینٹ اینڈرسن کو شکست دے کر ایوانِ زیریں میں اپنی نشست برقرار رکھی۔

مزید پڑھیں:چیئرمین پی سی بی نے ہر ایک کو کام کرنے کا مکمل اختیار دیا ہوا ہے: یاسر عرفات

اسی طرح ریاست کینٹکی کے تیسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما مورگن میک گاروی نے بھی امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔

ریاست جارجیا کے 13ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک امیدوار جیسمین کلارک نے کامیابی حاصل کرکے ایوانِ نمائندگان کی نشست اپنے نام کرلی۔

نیکیما ولیمز جارجیا کے 5 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے دوبارہ منتخب ہوگئے امریکی میڈیا کے مطابق نیکیما ولیمز نے ریپبلکن حریف جان سالویسن کو شکست دی۔

ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ الیگزینڈرو فراسٹ فلوریڈا کے دسویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے بلا مقابلہ دوبارہ منتخب ہوگئے۔

جبکہ ڈیموکریٹ رہنما لوئس فرینکل فلوریڈا کے 23 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے کامیاب ہوکر دوبارہ ایوانِ نمائندگان کے لیے دوبارہ منتخب ہوگئے۔

ڈیموکریٹک رہنما لوسی میک باتھ نے جارجیا کے چھٹے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے امریکی میڈیا کے مطابق لوسی میک باتھ نے اپنے ریپبلکن حریف کیون ای مارٹن کو شکست دے کر ایوانِ زیریں میں اپنی نشست کا کامیابی سے دفاع کیا۔

مزید پڑھیں:مجسٹریٹ کے اختیارات!لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ جاری

ریپبلکن رکنِ کانگریس ہال راجرز نے بھی کینٹکی کے 5 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جم شوارٹزل نے فلوریڈا 19 سے ایوانِ نمائندگان کی نشست پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوسوف نے اپنے ریپبلکن حریف مائیک کولنز کو شکست دے کر ریاست جارجیا سے امریکی سینیٹ کے لیے دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک رہنما لوئس فرینکل نے فلوریڈا 23 ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے امریکی میڈیا کے مطابق لوئنس فرینکل نے ریپبلکن امیدوار ڈیبورا ایڈیمی کو شکست دی ہے۔

جبکہ لوسی میک باتھ نے اپنے ریپبلکن حریف کیون ای مارٹن کو شکست دے کر جارجیا 6 سے ایوان نمائندگان کی نشست دوبارہ حاصل کرلی ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں نے ڈیلاویئر، الینوائے، نیو جرسی، روڈ آئی لینڈ اور میساچوسٹس میں سینیٹ کی نشستوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر لیں، امریکی میڈیا ڈیلاویئر سے ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز نے ریپبلکن امیدوار مائیکل کاٹز کو شکست دے کر سینیٹ دوبارہ کامیابی حاصل کی جبکہ الینوائے سے ڈیموکریٹک امیدوار جولیانا اسٹریٹن نے سینیٹ کی نشست اپنے نام کر لی ہے۔

مزید پڑھیں:عوام کیلئےخوشخبری،وزیر پیٹرولیم نے بڑا اعلان کر دیا

امریکی میڈیا نیو جرسی سے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے ریپبلکن حریف جسٹن مرفی کو شکست دے کر دوبارہ سینیٹر منتخب ہونے میں کامیابی حاصل کی ہے، روڈ آئی لینڈ سے ڈیموکریٹک سینیٹر جیک ریڈ نے ریاست سے امریکی سینیٹ کے لیے اپنی نشست کا کامیابی سے دفاع کیا ہے دوسری طرف میساچوسٹس سے ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے امریکی سینیٹ کے لیے دوبارہ فتح حاصل کی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست الینوائے سے ڈیموکریٹک گورنر جے بی پرٹزکر دوبارہ الینوائے کے گورنر منتخب ہو گئے ہیں۔

میساچوسٹس سے ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے اپنی نشست برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے، میری لینڈ سے ڈیموکریٹک گورنر ویس مور میری لینڈ سے دوبارہ گورنر منتخب ہو گئے ہیں جبکہ امریکی میڈیا پنسلوانیا سے ڈیموکریٹک گورنر جوش شاپیرو نے پنسلوانیا کی گورنر شپ پر دوبارہ فتح حاصل کر لی ہے۔

فلسطنیوں کے لیے آواز بلند کرنے والی ڈیموکریٹک رہنما رشیدہ طلیب نے مشی گن 12 سے ایوانِ نمائندگان مین دوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔

ریپبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز نے اپنے ڈیموکریٹک حریف ڈیوڈ جولی کو شکست دے کر فلوریڈا کے گورنر کا انتخاب جیت لیا ہے، امریکی میڈیا کے مطابق اس فتح کے ساتھ بائرن ڈونلڈز فلوریڈا کی تاریخ کے پہلے سیاہ فام گورنر بننے جا رہے ہیں۔ جبکہ ڈیموکریٹک امیدوار کیشا لانس باٹمز نے جارجیا کے گورنر کا مقابلہ جیت لیا ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق اٹلانٹا کی سابق میئر اور ڈیموکریٹک رہنما کیشا لانس باٹمز ریاست جارجیا کی گورنر منتخب ہو گئی ہیں، امریکی میڈیا کیشا لانس باٹمز امریکی تاریخ میں کسی بھی امریکی ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئی ہیں انہوں نے نے ریپبلکن حریف رِک جیکسن کو شکست دے کر جارجیا میں گورنر شپ کا کنٹرول حاصل کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد کانگریس کے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں میں جماعتوں کی پوزیشن مزید واضح ہوگی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ