ٹرمپ کا خود کو ’’اسرائیلی تاریخ کا بہترین صدر‘‘ قرار دینا، سوشل میڈیا پر شدید تنقید


واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے بیان سے تنازع کھڑا کر دیا، جب انہوں نے خود کو ’’اسرائیل کی تاریخ کا بہترین صدر‘‘ قرار دیا۔ سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ۸۰ سالہ ٹرمپ نے میزبان جو کیرنن سے گفتگو کے دوران کہا: ’’میرے لیے یہ سمجھ سے باہر ہے کہ کوئی یہودی ڈیموکریٹ کو ووٹ کیسے دے سکتا ہے۔ میں اسرائیل کی تاریخ کا بہترین صدر رہا ہوں۔‘‘ اس دوران انہوں نے ایک ادھورے جملے میں یہ دعویٰ بھی کرنے کی کوشش کی کہ وہ ۹۹ فیصد اسرائیلی عوام کی پسند ہیں۔
اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’’کیا ٹرمپ کو لگتا ہے کہ وہ اسرائیل کے صدر ہیں؟‘‘ جبکہ دوسرے نے کہا: ’’کسی کو انہیں بتانا چاہیے کہ وہ اسرائیل کے نہیں بلکہ امریکہ کے صدر ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا: ’’اوہ ٹھیک ہے، ہم ریاستہائے متحدہ اسرائیل میں رہتے ہیں، معقول بات ہے۔‘‘
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ٹرمپ کی ذہنی و جسمانی صحت زیرِ بحث ہے۔ ایران جنگ کے دوران ٹروتھ سوشل پر جاری کیے گئے ایک متنازع پیغام میں انہوں نے نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کا حکم دیا تھا، جس پر عالمی سطح پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔
اسی تناظر میں ٹرمپ نے فخریہ انداز میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے سرکاری نگرانی میں کئی بار ’’مونٹریال کوگنیٹو اسیسمنٹ‘‘ (MoCA) ٹیسٹ دیا اور ۳۰ میں سے مکمل ۳۰ نمبر حاصل کیے، جسے انہوں نے اپنی ’’انتہائی ذہانت‘‘ کا ثبوت قرار دیا۔ تاہم طبی ماہرین نے وضاحت کی کہ یہ آئی کیو ٹیسٹ نہیں بلکہ ایک اسکریننگ ٹول ہے جو ہلکی علمی خرابی اور ڈیمنشیا کی ابتدائی علامات جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
دریں اثنا سابق صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ٹرمپ کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ایک ہی جنگ کو ۳۸ بار ختم کرنے پر نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا۔ ہنٹر نے لکھا: ’’تاریخ میں کسی صدر نے ایک ہی جنگ کو اتنی بار ختم نہیں کیا۔ سی این این کی گنتی کے مطابق ہمارے پیارے لیڈر نے ایران کے ساتھ جنگ کم از کم ۳۸ بار ختم کی ہے، اور وہ اسے حقیقتاً ختم کرنے کے قریب بھی نہیں ہیں۔‘‘

متعلقہ پوسٹ