اسلام آباد: خودکش حملہ آور پاکستانی شہری تھا، افغانستان کا دورہ کیا تھا — وزیر دفاع خواجہ آصف

IMG 20260207 WA1332


نوشہرہ سے اسلام آباد آیا، رشتہ داروں تک پہنچ گئے؛ حملے کے سہولت کاروں کی گرفتاریاں
اسلام آباد، 7 فروری 2026 — پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں جمعہ کے روز ہونے والے خودکش دھماکے کا حملہ آور ایک پاکستانی شہری تھا جو کچھ عرصہ قبل افغانستان گیا تھا۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ حملہ آور نوشہرہ سے اسلام آباد آیا اور اس کے رشتہ داروں تک قانون نافذ کرنے والے ادارے پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور نے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور بھارت براہ راست جارحیت کی جرات تو نہیں کر سکتا، لیکن اپنی پراکسیز اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں امن تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وزارت داخلہ اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آور کی شناخت ہو چکی ہے اور وہ پشاور کا رہائشی تھا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ حملہ آور افغان شہری نہیں تھا، البتہ فارنزک ٹیسٹوں سے اس کے افغانستان آنے جانے کی متعدد تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
حکام نے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپوں کے دوران حملے کے چار سہولت کاروں کو گرفتار کیا ہے۔ بعض رپورٹس میں ایک افغان باشندے کو داعش (ISIL) سے منسلک ماسٹر مائنڈ کے طور پر حراست میں لینے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ داعش کی ایک شاخ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اس حملے میں کم از کم 31 سے 33 افراد ہلاک اور 169 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ اسلام آباد میں گزشتہ ایک دہائی کا سب سے ہولناک دہشت گرد حملہ ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ