اسلام آباد: شیعہ امام بارگاہ میں خود کش حملہ آور نے 4 سے 6 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا، بال بیرنگ سے بھرا ہوا تھا

IMG 20260207 WA1334


اسلام آباد، 7 فروری 2026 — پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کلان میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک شیعہ امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش حملے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 169 سے زائد زخمی ہوگئے۔ یہ گزشتہ ایک دہائی میں اسلام آباد کا سب سے ہولناک دہشت گرد حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیس اور تفتیشی ذرائع کے مطابق حملہ آور نے امام بارگاہ کے گیٹ پر فائرنگ کی اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد وہ ہال میں داخل ہوا اور وہاں مزید گولیاں چلائیں۔ ابتدائی فارنزک رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے میں 4 سے 6 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیرنگ (لوہے کی چھوٹی گیندیں) کی بڑی مقدار شامل تھی، جس نے جانی نقصان کو بڑھاوا دیا۔
حملہ آور نے راستے میں 2 گولیاں اور ہال کے اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں جن کے خول جائے وقوعہ سے برآمد ہو چکے ہیں۔ نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی کہ حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ہال میں داخل ہو کر خودکش دھماکا کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اب تک کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی، البتہ بعض رپورٹس میں داعش سے منسلک گروہ کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ واقعے کے بعد اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

متعلقہ پوسٹ