انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کی درخواست مسترد کر دی

IMG 20260207 WA1337


راولپنڈی (7 فروری 2026) – راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ اور علاج کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
عدالت کے جج سید امجد علی شاہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ سنایا جس میں واضح کیا گیا کہ اڈیالہ جیل کے قوانین اور پاکستان پریزن رولز کے تحت عمران خان کو مناسب اور باقاعدہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس بنیاد پر ذاتی معالجین کی رسائی کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کے ذاتی ڈاکٹروں ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر خرم اور ڈاکٹر ثمینہ سے کروایا جائے۔ وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی، قانونی اور اخلاقی حق ہے اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی ذاتی معالجین کی سہولت حاصل رہی تھی۔ اس کے علاوہ راولپنڈی جیل رول 795 کے تحت فیملی کو میڈیکل چیک اپ کی تفصیلات بتانے کی پابندی کا حوالہ بھی دیا گیا۔
پراسیکیوشن کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان 9 مئی جی ایچ کیو حملے کے مقدمے میں انڈر ٹرائل ہیں، قیدی نہیں، اور پاکستان پریزن رولز میں ذاتی معالجین سے علاج کا کوئی خصوصی حق نہیں دیا گیا۔
عدالت نے جیل انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی معلومات اور میڈیکل رپورٹس پر غور کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔ یہ فیصلہ عمران خان کی صحت سے متعلق جاری بحث کے تناظر میں اہم ہے، جہاں حال ہی میں ان کی آنکھ کے علاج کے لیے پمز ہسپتال منتقلی اور میڈیکل رپورٹس جاری کی گئی تھیں۔

متعلقہ پوسٹ