بسنت 2026 کا پہلا دن: لاہور میں پتنگ بازی کے حادثات میں 2 افراد جاں بحق، 40 زخمی – میو ہسپتال

IMG 20260207 WA1331


لاہور (7 فروری 2026) – بسنت کے تہوار کے پہلے دن لاہور میں پتنگ بازی اور اس سے جڑے حادثات نے ایک بار پھر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔ میو ہسپتال انتظامیہ کے مطابق پہلے روز اسپتال میں 2 لاشیں اور تقریباً 40 زخمی لائے گئے۔
حادثات کی بڑی وجوہات میں قاتل ڈور (شیشے یا کیمیکل والی پتنگ کی ڈور) سے گردن اور چہرے پر زخم، بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگنا (خاص طور پر پتنگ لوٹنے کے دوران)، چھتوں سے گرنا اور دیگر پتنگ بازی سے متعلق واقعات شامل ہیں۔ زخمیوں میں بچے اور نوجوان بھی شامل ہیں، جن میں سے بیشتر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا۔
میڈیکل ذرائع کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک نہیں رہی، تاہم مکمل اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے گئے۔ محکمہ صحت پنجاب نے بسنت کے تین روزہ تہوار کے دوران تمام اسپتالوں میں الرٹ جاری رکھا ہوا ہے اور ریسکیو 1122 سمیت ایمرجنسی ٹیمیں متحرک ہیں۔
واضح رہے کہ بسنت 2026 تقریباً 18 سال بعد دوبارہ منایا جا رہا ہے جس کے لیے حکومت نے حفاظتی اقدامات (جیسے موٹرسائیکل پر حفاظتی راڈز اور دھاتی ڈور پر پابندی) نافذ کیے تھے، مگر پہلے دن ہی متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
دوسری جانب اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش دھماکے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی تمام بسنت تقریبات منسوخ کر دیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ لبرٹی اسکوائر میں شیڈول میگا بسنت شو بھی منسوخ ہے۔ شہر میں لبرٹی چوک پر گڈوں کے بڑے ماڈلز اور لاہور پریس کلب میں بسنت فیسٹیول کے انتظامات تو موجود ہیں، مگر سرکاری سطح پر تقریبات معطل ہیں۔
آج بسنت کا دوسرا روز ہے اور لاہوری شہری احتیاط کے ساتھ پتنگ بازی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ