مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے سلسلے میں منعقد آل پارٹی میٹنگ کے دوران جب اپوزیشن نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد کے بیک چینل ثالث کے طور پر ابھرنے پر سوال اٹھایا، تو حکومت نے جواب دیا کہ ہندوستان پاکستان کی طرح’دلال ملک‘ نہیں ہے۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نے اجلاس میں تمام سوالوں کے جواب دے دیے ہیں اور اپوزیشن نے اپنی حمایت ظاہر کی ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کو’غیر تسلی بخش‘ قرار دیا۔
گزشتہ25مارچ کو نئی دہلی میں مغربی ایشیا بحران پر تبادلہ خیال کے لیے حکومت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ کے بعد وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، کانگریس کے رکن پارلیامنٹ مکل واسنک اور طارق انور، سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ دھرمیندر یادو سمیت دیگر باہر نکلتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی/روی چودھری)
نئی دہلی: مغربی ایشیا میں کشیدگی شروع ہونے کے تقریباً ایک ماہ بعد اور پارلیامنٹ میں اس معاملے پر بحث کے لیے اپوزیشن کے مسلسل مطالبے کے درمیان، مرکزی حکومت نے بدھ (25 مارچ) کو ہندوستان پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کے لیے آل پارٹی میٹنگ بلائی۔
پارلیامانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نے تمام سوالوں کے جواب دے دیے ہیں اور اپوزیشن نے حمایت ظاہر کی ہے، لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کو’غیر تسلی بخش ‘قرار دیا۔
دی وائر کو موصولہ معلومات کے مطابق، جب اپوزیشن نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد کے بیک چینل ثالث کے طور پر ابھرنے پر سوال اٹھایا، تو حکومت نے جواب دیا کہ ہندوستان پاکستان کی طرح ’دلال ‘ ملک نہیں ہے۔
اجلاس کی صدارت وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کی۔ اجلاس میں وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جئے شنکر، پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور کرن رجیجو بھی موجود تھے۔
اپوزیشن کی جانب سے اجلاس میں طارق انور، جان برٹاس، سنجے سنگھ کے علاوہ کانگریس کے مکل واسنک، سماج وادی پارٹی کے دھرمیندر یادو اور بی جے ڈی کے سسمیت پاترا شامل ہوئے۔
ترنمول کانگریس نے ’بند کمرے میں‘اجلاس کی مخالفت کرتے ہوئے اس میں حصہ نہیں لیا۔
اپوزیشن اراکین نے 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے یکطرفہ حملے، جس میں اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہوئی، پر ہندوستان کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔ ساتھ ہی، وزیر اعظم نریندر مودی کے حملے سے دو دن پہلے اسرائیل کے دورے پر بھی سوال کیے گئے۔
حکومت نے کہا کہ ہندوستان تمام ممالک سے بات چیت کر رہا ہے اور ملک کی توانائی کی ضروریات محفوظ ہیں۔
ذرائع نے دی وائر کو بتایا کہ اپوزیشن نے کہا کہ یہ بحث پارلیامنٹ کے اندر ہونی چاہیے تھی۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ ملک کی توانائی کی فراہمی محفوظ ہے۔ ملک کی ایل پی جی کی 60 فیصد طلب گھریلو پیداوار سے پوری ہو رہی ہے اور اب ہندوستان 27 کے بجائے 41 ممالک سے ایندھن خرید رہا ہے۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور تمام فریقوں سے رابطہ برقرار ہے۔
اپوزیشن نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ پاکستان کیسے ممکنہ ثالث بن گیا اور اس سے ہندوستان کی عالمی حیثیت پر کیا اثر پڑا۔ اس پر حکومت نے کہا کہ پاکستان’دلال ‘ملک ہے جبکہ ہندوستان ایک اہم عالمی طاقت ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیامنٹ طارق انور نے دی وائر سے کہا،’ہم اس میٹنگ سے مطمئن نہیں ہیں۔ حکومت نے جنگ پر اپنے ردعمل کو صحیح طریقے سے نہیں سنبھالا ہے اور پاکستان کا ثالث بننا ہماری سفارت کاری کی ناکامی ہے۔ پارلیامنٹ میں بحث کی ہماری مانگ برقرار ہے۔ اس پر حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا اور صرف اتنا کہا کہ اس پر فیصلہ اسپیکر کریں گے۔’
عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ سنجے سنگھ نے بھی کہا کہ اپوزیشن نے وزیر اعظم مودی کے اسرائیل کے دورے اور حملے پرہندوستان کی خاموشی کو لے کر سوال اٹھائے، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا،’یہ بھی مسئلہ اٹھایا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان نے ایک اسٹینڈ لے لیا ہے، جس پر جواب ملا کہ ہم ہی واحد ملک ہیں جو اسرائیل، ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک سب سے بات کر سکتا ہے۔’
انہوں نے کہا کہ حکومت یہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کے تمام ممالک سے تعلقات اچھے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایندھن کے بحران کی صورت میں حکومت کیسے نمٹے گی۔
اپوزیشن کے اراکین نے کہا کہ جہاں حکومت نے یہ کہا کہ وہ جنگ کے جلد ختم ہونے کی امید کرتی ہے، وہیں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف یکطرفہ کارروائی پر کوئی واضح موقف نہ لینے پر اختلاف رائے کااظہار کیا۔
سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیامنٹ جان برٹاس نے کہا کہ حکومت نے تمام ممالک سے بات چیت کی بات کہی اور امید ظاہر کی کہ جنگ جلد ختم ہوگی، لیکن اپوزیشن نے امریکہ اور اسرائیل کی یکطرفہ کارروائی پر حکومت کی خاموشی پر اختلاف ظاہر کیا۔
میٹنگ کے بعد رجیجو نے کہا کہ حکومت نے تمام سوالوں کے واضح جواب دیے اور اپوزیشن نے آخر میں اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی بات کہی۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا،’میٹنگ کے آخر میں اپوزیشن جماعتوں نے، جو بہت اہم ہے، یہ کہا کہ وہ اس آل پارٹی میٹنگ کو بلانے کے لیے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی مشکل اور چیلنجنگ صورتحال میں ہمیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہونا ہوگا۔’
انہوں نے مزید کہا،’وزیر اعظم مودی نے پارلیامنٹ کے ذریعے اپیل کی ہے کہ کسی بھی چیلنجنگ صورتحال میں ہندوستانی پارلیامنٹ متحد ہو کر کھڑی ہو۔ میرا ماننا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میٹنگ کے آخر میں کہا کہ وہ ہر مشکل صورتحال میں حکومت کے اقدامات کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔’
رجیجو نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے چار جہازوں کے محفوظ گزرنے پر اپوزیشن مطمئن تھی۔
انہوں نے کہا،’کئی اراکین آبنائے ہرمز کے ذریعے گیس اور پیٹرولیم کی فراہمی کے بارے میں تفصیلی معلومات چاہتے تھے، اور وہ اس بات سے مطمئن تھے کہ ہندوستان نے پہلے ہی چار جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنا لیا ہے۔ اس لیے اپوزیشن اراکین حکومت کی کوششوں سے مطمئن تھے۔’
تاہم، اپوزیشن نے دہرایا کہ پارلیامانی اجلاس کے دوران ایسی میٹنگ بلانے کا کوئی جواز نہیں تھا اور بحث ایوان میں ہونی چاہیے تھی۔
جہاں رجیجو نے صحافیوں سے کہا کہ ٹی ایم سی ‘دورے پر‘ ہونے کی وجہ سے میٹنگ میں شامل نہیں ہو سکی، وہیں پارٹی نے واضح کیا کہ اس نے ایوان میں بحث سے حکومت کے انکار کی وجہ سے میٹنگ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ٹی ایم سی کی رکن پارلیامنٹ ساگریکا گھوش نے کہا،’ہم نے اپنے اصولوں کی بنیاد پر میٹنگ میں حصہ نہیں لیا، کیونکہ ایل پی جی اور ایندھن کی کمی کے درمیان یہ ایک سنگین قومی بحران ہے اور ایسے وقت میں بند کمرے میں ہونے والی میٹنگ میں شامل ہونا مناسب نہیں ہے۔’
انہوں نے کہا،’ان آرگنائزڈ سیکٹر کے کارکن اپنی نوکریاں کھو رہے ہیں، لوگ ایل پی جی کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ ایسے حالات میں ہمارا ماننا ہے کہ حکومت کو ایوان میں آکر یہ بتانا چاہیے کہ بحران کے وقت فراہمی برقرار رکھنے کے لیے وہ کیا اقدامات کرنے جا رہی ہے اور عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ حکومت اپوزیشن کو بند کمرے میں معلومات کیوں دے رہی ہے؟’
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

