فائر بندی کے باوجود پاکستان کا حملہ، ایک شخص جان سے گیا: افغان حکومت کا دعویٰ

393752 1002777375


طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے باوجود اتوار کو پاکستان کی طرف سے گولہ باری سے مشرقی افغانستان میں ایک شخص مارا گیا ہے۔

افغان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’آج، اتوار، پاکستانی فوجی حکومت کی طرف سے داغا گیا ایک مارٹر گولہ صوبہ کنڑ کے ناری ضلع میں شانپت کے علاقے پر گرا، جس سے ایک شہری مارا گیا اور ایک خاتون زخمی ہوئی۔‘

تاہم اس سلسلے میں پاکستانی حکام کا موقف ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق مرنے والوں اور زخمیوں کی تعداد کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔نن يکشنبه د اختر څلورمه سهار نهه نيمې بجې د کنړ ولایت ناړۍ ولسوالۍاړوند شانپټ په ساحه کې د پاکستان فوځي رژيم له لوري د هاوان مرمۍ فاير شوې چې له امله یې يوه ميرمن ټپي او يو تن ملکي کس په شهادت رسيدلی دی.
دغه راز د یاد رژیم ملیشو په پکتیکا ولایت شکین ولسوالۍ کې د ملکي خلکو پر…

18 مارچ کی رات پاکستان کی حکومت نے عید الفطر کے احترام کے پیش نظر اور اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں عسکریت پسندوں اور ان کے حمایتوں کے خلاف آپریشن غضب للحق عارضی طور پر (23/24 مارچ کی درمیانی رات تک) روکنے کا اعلان کیا تھا۔  

اس کے جواب میں افغانستان میں طالبان حکومت نے بھی اپنا آپریشن ’ردِ الظلم‘ روکنے کا اعلان کیا تھا۔ 

آج (اتوار) کا یہ مبینہ حملہ افغان دارالحکومت میں اسلحہ اور ڈرونز کے ڈپو پر پاکستانی حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ تاہم طالبان حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حملہ منشیات کی بحالی کے مرکز پر کیا گیا تھا جس میں 400 سے زیادہ افراد جان سے گئے تھے۔  

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک بین الاقوامی این جی او، نارویجن ریفیوجی کونسل نے کہا کہ اس حملے میں ’سینکڑوں اموات اور لوگ زخمی ہوئے۔‘

افغانستان اور پاکستان کئی مہینوں سے اسلام آباد کے اس دعوے پر تنازعہ میں ہیں کہ کابل اپنی سرزمین پر سرحد پار سے حملوں کے پیچھے انتہا پسندوں کو پناہ دے رہا ہے۔

افغانستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

گذشتہ منگل کو اقوام متحدہ کے کے مطابق، منشیات کی بحالی کے مرکز پر حملے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، 26 فروری کو اس میں شدت آنے کے بعد سے کم از کم 76 افغان شہری مارے جا چکے ہیں۔

اس نے مزید کہا کہ افغانستان میں 115,000 سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ