خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں ترمیم کالعدم قرار

IMG 20260206 WA2273

آئی جی پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا اختیار واپس لینا غیر قانونی: عدالت

پشاور – پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں کی گئی ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا غیر قانونی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے 28 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں متنازعہ ترمیم کو آئین اور قانون کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پولیس کے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری آئی جی پولیس کا آئینی اور قانونی اختیار ہے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت پولیس کی خودمختاری کے خلاف ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رکھنا ضروری ہے۔
چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ پولیس ایکٹ 2017 پولیس کی آزادی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن حالیہ ترمیم اس مقصد کے منافی ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ تمام تقرریاں قانون کے مطابق کی جائیں۔
قانونی ماہرین نے عدالت کے فیصلے کو پولیس کی آزادی کے لیے اہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ پولیس کی ادارہ جاتی خودمختاری کو تحفظ فراہم کرے گا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس فیصلے پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ پوسٹ