اسلام آباد (انٹرنیشنل نیوز ڈیسک) — مشرق وسطیٰ میں جاری ایران-اسرائیل-امریکہ تنازع نے ایک خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے۔ مارچ 2026 کے دوران ایران کی جانب سے خلیجی ممالک (سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور دیگر) پر ڈرون اور میزائل حملوں کی لہر نے توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے رات کے وقت کیے گئے، جن میں سعودی عرب کی رس تنورہ ریفائنری، قطر کی رس لفان ایل این جی فیسیلٹی، متحدہ عرب امارات کے فجیرہ آئل ہب اور شاہ گیس فیلڈ، کویت کی مینا الاحمدی اور مینا عبداللہ ریفائنریز سمیت متعدد تنصیبات متاثر ہوئیں۔708734
حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی رس تنورہ ریفائنری (550,000 بیرل یومیہ صلاحیت) کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا، جبکہ قطر انرجی نے اپنی دنیا کی سب سے بڑی ایل این جی برآمداتی فیسیلٹی رس لفان میں آپریشنز معطل کر دیے۔ متحدہ عرب امارات میں فجیرہ پورٹ اور صنعتی زون میں آگ بھڑک اٹھی، جہاں تیل کی اسٹوریج اور بunkerنگ آپریشنز متاثر ہوئے۔ کویت اور بحرین کی ریفائنریز میں بھی آگ لگی اور پروڈکشن متاثر ہوئی۔
ایرانی حملوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔ سعودی ذرائع کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک پر 83 فیصد حملے کیے، جبکہ اسرائیل پر صرف 17 فیصد۔ خلیجی ممالک کے فضائی دفاعی نظاموں نے زیادہ تر ڈرونز اور میزائلوں کو روک لیا، مگر ملبے سے آگ لگنے اور پروڈکشن معطل ہونے کے واقعات سامنے آئے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے اسرائیل اور امریکہ کے ایرانی تنصیبات پر حملوں کا جواب ہیں، جبکہ خلیجی ممالک نے انہیں "ناقابل قبول” قرار دے کر مذمت کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے "worst-case scenario” ثابت ہو سکتے ہیں۔ برینٹ کروڈ کی قیمتیں 8 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، جبکہ گیس کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ آبنائے ہرمز کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے عالمی سپلائی چین خطرے میں پڑ گئی ہے۔
خلیجی ممالک نے مشترکہ بیان جاری کر کے ایران سے فوری حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور خود کو دفاع کا حق محفوظ رکھا ہے۔ بھارت سمیت کئی ممالک نے بھی توانائی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔
صورتحال اب بھی کشیدہ ہے اور ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر تنازع مزید بڑھا تو عالمی معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

