ہتھیار ڈالنے کا معمولی اشارہ بھی امریکہ کو حوصلہ دے گا: ایرانی سپریم لیڈر

kham 300826 d 1 1


تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) – ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی سفارتی کوششوں کے دوران ہتھیار ڈالنے کا معمولی سا اشارہ بھی امریکہ کو حوصلہ دے گا۔
بدھ کو سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسا رویہ صرف "مغرور دشمن” کو مزید زیادتیوں، مزید جنگوں اور جسارت پر اکسائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جارحیت دہرائی گئی تو نیا تنازع بہت وسیع ہو جائے گا۔
یہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد سپریم لیڈر کا پہلا ردعمل ہے، جن میں رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھو دیا۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ اپریل میں پاکستان اور ترکی کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی۔ جون میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، مگر سیکورٹی اختلافات کے باعث عمل درآمد رک گیا۔ پس پردہ کوششیں جاری ہیں، تاہم ناکامی کی صورت میں حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ