اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کی کانگریس پر فتح ٹرمپ اور اسرائیل کے لیے بڑا دھچکا ہے

white house


تل ابیب: امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر فتح کے بعد اسرائیلی میڈیا نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے لیے اس کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
معاریو اخبار نے نتائج کو اسرائیل کے لیے ’گہری تشویش‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوجی امداد کی مخالفت کرنے والے اور غزہ میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے ترقی پسند ڈیموکریٹ قانون سازوں کی کامیابی سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل مخالف رجحان مضبوط ہوا ہے۔ اخبار نے مین میں ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن کی طویل عرصے سے اسرائیل کی حامی سینیٹر سوسن کولنز پر فتح کو خاص طور پر اجاگر کیا۔
یدیعوت احرونوت نے نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ’ذلت آمیز شکست‘ کہا اور کہا کہ ڈیموکریٹس کا ایوان اور سینیٹ دونوں پر کنٹرول انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے باقی دور میں قانون سازی، تقرریوں اور فیصلوں میں رکاوٹ ڈالنے کا اختیار دے گا۔
اسرائیل ہیوم نے خبردار کیا کہ نئی کانگریس اسرائیل کو زیادہ تنقیدی انداز میں دیکھے گی اور ہتھیاروں کی فروخت، ایران سے تصادم، پابندیوں اور علاقائی معاہدوں جیسے معاملات پر وائٹ ہاؤس کے ساتھ تنازع پیدا کر سکتی ہے۔ اخبار نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کے اسرائیل کو سالانہ امریکی امداد ختم کرنے کے اعلان کے بعد ایک غیر دوستانہ کانگریس اسرائیل کے لیے سیاسی مشکلات مزید بڑھا سکتی ہے۔
نیتن یاہو سے منسلک دائیں بازو کے چینل 14 نے نتائج کو ٹرمپ اور اسرائیل کے لیے ’بڑا دھچکا‘ قرار دیا اور پیش گوئی کی کہ ڈیموکریٹس خارجہ امور، دفاع اور فنڈ مختص کرنے کی کمیٹیوں کی قیادت سنبھال کر اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل اور ایران کے خلاف فوجی پالیسی پر سخت نگرانی میں رکھیں گے۔

متعلقہ پوسٹ