امریکی ایوان نمائندگان میں نئی تاریخ رقم ڈیموکریٹس کی 100 سے زائد خواتین کامیاب

news 1793866139 6137



news 1793866139 6137

(24نیوز)انتخابی نتائج کے مطابق پہلی بار امریکی تاریخ میں 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین بیک وقت ایوانِ نمائندگان کی رکن بننے جا رہی ہیں، جسے امریکی سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے غیر معمولی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نیو میکسیکو سے تعلق رکھنے والی رکنِ کانگریس اور ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کی سربراہ ٹریسا لیگر فرنانڈیز نے بیان میں کہا کہ خواتین نے اپنے ووٹوں سے تاریخ رقم کی، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کو ایوانِ نمائندگان میں منتخب کیا گیا،ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور ری پبلکنز کے انتہا پسندانہ ایجنڈے کے اثرات کا سب سے زیادہ سامنا خواتین نے کیا، تاہم حالیہ انتخابات میں انہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے واضح کر دیا کہ وہ موجودہ صورتِ حال سے مطمئن نہیں ہیں۔

ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کے انتخابی ونگ الیکٹ ڈیموکریٹک ویمن نے انتخابی مہم کے آغاز ہی سے 100 خواتین کی کامیابی کو اپنا ہدف بنایا تھا،فلوریڈا سے رکنِ کانگریس اور تنظیم کی بانی رکن لوئس فرینکل کے مطابق 100 خواتین کا ایوان میں پہنچنا ایک اہم علامتی کامیابی ہے اگرچہ جماعت کی خواہش اس سے بھی زیادہ خواتین کو منتخب کرانے کی ہے۔

اس تاریخی پیش رفت کے پیچھے کئی دہائیوں کی سیاسی جدوجہد، امیدواروں کی تیاری اور انتخابی فنڈز جمع کرنے کی کوششیں شامل ہیں، ایملی لسٹ سمیت مختلف تنظیموں نے ڈیموکریٹ خواتین کو انتخابی میدان میں آگے بڑھانے اور کامیاب مہمات چلانے میں مدد فراہم کی۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کیلئے جنوبی کوریا بھی متحرک، بحری مشن تعینات کرنے کا فیصلہ

ایملی لسٹ کی صدر جیسیکا میکلر نے کہا کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کو مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ کامیاب انتخابی مہمات چلا سکتی ہیں،حالیہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جانب سے حاصل کی گئی 40 نشستوں میں سے 18 پر خواتین امیدوار کامیاب ہوئیں، ان کامیابیوں میں مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور بدعنوانی کے تاثر پر ووٹرز کی ناراضی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

کچھ خواتین امیدواروں نے اپنی ہی جماعت کے موجودہ ارکان کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی، جارجیا کی نومنتخب رکن جیسمین کلارک، کولوراڈو کی میلات کیروس اور نیویارک کی داریا لیزا اویلا شیوالیے ان میں شامل ہیں۔

جیسمین کلارک کانگریس میں پہلی سیاہ فام خاتون پی ایچ ڈی سائنسدان ہوں گی، جبکہ میلات کیروس کولوراڈو کی نمائندگی کرنے والی پہلی سیاہ فام خاتون اور کانگریس کی پہلی جنریشن زی خاتون رکن بنیں گی۔

خیال رہے کہ خواتین امریکی آبادی کا تقریباً نصف ہیں، تاہم کانگریس میں ان کی نمائندگی اب بھی صرف 28 فیصد ہے۔

1917 میں جینیٹ رینکن کانگریس کی پہلی خاتون رکن منتخب ہوئی تھیں، اس کے بعد خواتین نے سیاسی نمائندگی اور مساوی سہولیات کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کی متوقع کامیابی امریکی سیاست میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے اور مستقبل میں ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت میں خواتین کی نمائندگی بڑھنے کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کیلئے سینیٹ کے67 ووٹ درکار ہوں گے،  ڈیموکریٹس کے پاس 54 نشستوں کی صورت میں اگر ان کے تمام ارکان بھی مواخذے کی تحریک میں ووٹ ڈالیں گے تو انہیں مزید 13سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

  100رکنی سینیٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرلینا بذاتِ خود صدر کی برطرفی کے لیے کافی نہیں ہوگا جب کہ مواخذے کے لیے علیحدہ قانونی اور آئینی کارروائی بھی ضروری ہوگی۔

 سیاسی مبصرین کے نزدیک ڈیموکریٹس کی کامیابی صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا سکتی ہے، خصوصاً اگر ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔

 





Source link

متعلقہ پوسٹ