(وسیم عظمت) پرائم منسٹر بنجمن نیتن یاہو صدر ہرزوگ کے ساتھ نئی حکومت بنانے کی مشاورت کے لئے خود ان کے گھر نہیں گئے، وزیر تعلیم کی قیادت میں وفد بھیج دیا۔ وزیر تعلیم کو صدر ہرزوگ کے ساتھ ملاقات میں سرزنش جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
آج یہ دلچسپ صورتحال میڈیا میں رپورٹ ہوئی کہ لیکود پارٹی جو نیتن یاہو کی قیادت میں نئی حکومت بنانے کے لئے اکثریت سے محروم ہونے کے باوجود بضد ہے کہ ان کے خلاف الیکشن لڑنے ولے اب ان کے ساتھ اتحاد کر لیں اور نیتن یاہو کو وزیر اعظم بنائیں۔ نیتن یاہو کی پارٹی کو حکومت بنانے کی طاقت ظاہر کرنے اور صدر کو قائل کرنے کے لئے آج صدر ہرزوگ کی دعوت پر ان کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے ان کے گھر جانا تھا۔ یہ ملاقات ہوئی تو اس مین نیتن یاہو موجود نہین تھے۔ نیتن یاہو کے وزیر تعلیم نے صدر ہرزوگ کو تجویز پیش کی کہ لیکود پارٹی اور دوسری تمام "زایونسٹ پارٹیاں مل کر نیتن یاہو کی پرائم منسٹر شپ میں حکومت بنائیں۔” لیکن لیکود پارٹی اپنے مخالف کیپم کے واضح انکار کے بعد اس تجویز پر اصرار کرنے کے سوا صدر ہرزوگ کو کوئی وجہ نہیں بتا سکی کہ نیتن یاہو کو وزیراعظم کے لئے کیوں نامزد کیا جائے۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے جمعرات کی شام 8:30 بجے لیکود کے وفد سے ملاقات کی۔ یہ جماعتوں کے ساتھ مشاورتی ملاقاتوں کا آخری مرحلہ تھا۔
اس ملاقات میں نیتن یاہو کی عدم موجودگی سے ان کی دوبارہ پرائم منسٹر بننے کی کوشش میں ناکامی کا یقین ہونے کا اظہار ہوتا ہے لیکن یہ قیادت سے دستبردار ہونے یا ملاقات کا بائیکاٹ کرنے کا ثبوت نہیں۔
لیکود ن کے وفد نے اپنی نامزدگی نیتن یاہو ہی کے حق میں رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیئے: فلسطینیوں کے اتحاد نے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، نیتن یاہو کا عہد تمام ہوا
اس سے پہلے نیوز آؤٹ لیٹ وائی نیٹ نے بتایا کہ حکومت سازی کے حوالے سے مشاورت کے سلسلے میں ’لیکود‘ (Likud) دھڑا صدر ہرزوگ کی رہائش گاہ پہنچا۔ وزیر تعلیم یوو کیش (Yoav Kisch) نے کہا کہ لیکود ’کسی کا بائیکاٹ نہیں کرتا۔ دائیں بازو کا بائیکاٹ بند کریں؛ آپ کو یہودی ریاست کی روشنی بجھانے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک "وسیع قومی حکومت” میں وہ تمام صیہونی جماعتیں شامل ہوں گی جو اس کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔‘
صدر ہرزوگ کی طنز
بعد ازاں انہوں نے ’رعام‘ (Ra’am) پر الیکشن چرانے کے الزام کے معاملے اور قطر سے انتخابی رشوت کے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’میرا خیال ہے کہ ایسے ممالک کی جانب سے آنے والا غیر ملکی پیسہ—جو میدانِ جنگ میں تو کامیاب نہ ہو سکے—اب اندرونی طور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔‘ اس پر ہرزوگ (Herzog) نے جواب دیا: ’کبھی کبھی چیزوں کا آغاز تو بہت بڑے پیمانے پر ہوتا ہے، لیکن اختتام کمزوری کی ایک دھیمی سی آواز کے ساتھ ہوتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیئے: اسرائیلی صدر کی آئینی ملاقاتیں؛ نیتن یاہو کا پتہ کٹ گیا، پرائم منسٹر کیلئےہریدی دھڑے کا ووٹ دینے سے انکار

