برادر کشی کا سامراجی جال

2726118 ashfaqullahj 1729577927


خطے میں سلگتی آگ، کروز اور بیلسٹک میزائلوں کی گونج امتِ مسلمہ کے وجود، غیرت اور اتحاد پر مسلط کی گئی ایک انتہائی گہری، بھیانک اور سفاکانہ سازش کا پیش خیمہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سامراجی طاقتوں اور صیہونی فکر نے مسلم دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے ہمیشہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی حکمتِ عملی کا سہارا لیا۔ آج مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اسی بھیانک منصوبے کا تسلسل ہے۔ امریکا اور اسرائیل، ایران کے ساتھ براہِ راست اور مکمل جنگ میں کودنے کے بجائے پورے خطے کے اسلامی ممالک کو ایک ایسی برادر کش جنگ میں دھکیل رہے ہیں، جہاں مسلمان ہی مسلمان کا خون بہائے، جو رفتہ رفتہ حقیقت کا روپ دھارتا دکھائی دے رہا ہے، مشرقِ وسطیٰ کی فضائیں، سمندر اور زمین امریکی جنگی ساز و سامان اور بیڑوں سے لرز رہے ہیں مگر میدانِ جنگ میں ایندھن صرف اسلامی ممالک کے وسائل اور مسلمان بن رہے ہیں۔

پہلے سفارتی اور عسکری محاذ آرائی کے ذریعے ایران اور عرب ممالک کو دست و گریبان کیا گیا اور اب یمن کے حوثیوں کے ذریعے اس انارکی اور تباہی کے دائرے کو حرمین شریفین اور خلیجی خطے کی سلامتی تک پھیلا دیا گیا ہے اور مسلمان ممالک کی تباہی کو استعماری صیہونی طاقتیں دور بیٹھ کر بغلیں بجا کر اپنے فتح اور مقصد میں کامیابی پر جشن منا رہے ہیں۔ اس بھیانک کھیل کا سب سے زیادہ دردناک، دل دہلا دینے والا اور روح فرسا پہلو مقدس ترین سرزمین،بالخصوص حرمین شریفین کے تقدس اور سیکیورٹی پر ہونے والے مسلسل ڈرون اور میزائل حملے ہیں۔ حرمین شریفین دنیا بھر کے پونے دو ارب مسلمانوں کے روحانی مراکز، قبلہ اور ان کے ایمان کا بنیادی اجزاء ترکیبی میں سے ہیں۔ حرمین شریفین کی سمت داغے جانے والے میزائل ہر مسلمان کے دل کو چھید رہے ہیں۔ اس ابلیسانہ سازش نے امتِ مسلمہ کو شدید کرب، بے یقینی، غصے اور بے بسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

 معاشی طور پر مستحکم سعودی عرب کے تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں نے اس کی معاشی اور دفاعی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سامراجی طاقتوں کی شہہ اور باہمی نفرتوں کے نتیجے میں مسلمان اپنے ہی ہاتھوں اپنے گھر کو آگ لگا کر صیہونیت کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ اس عالمی اور علاقائی جنگی طوفان کے اثرات محض سرحدوں اور جنگی میدانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے عالمِ اسلام بالخصوص پاکستان کی معیشت اور عام عوام کی زندگیوں کو ایک ناقابلِ برداشت اور ہولناک عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جسکے اثرات براہِ راست پاکستان کی زبوں حال معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ پیٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ ہو چکا ہے، جس نے متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ افراطِ زر اور معاشی بدحالی کے چنگل میں جکڑا عام پاکستانی اب اس جنگ کا تاوان بھرنے پر مجبور ہے۔

بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کے ذرائع خطرے میں اور صنعتیں زوال پذیر ہیں۔ معاشی تنگی کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں میں پھیلا ہوا عمیق جذباتی اور دینی صدمہ ان کے جگر کو چھلنی کر رہا ہے۔ بغداد، دمشق، بیروت اور غزہ کی راکھ کو دیکھنے کے بعد اب ایک اور مسلم ملک کو تباہی کے دہانے پر دیکھ کر امتِ مسلمہ کے عوام اندر سے ٹوٹ چکے ہیں اور ان کے اندر شدید بے بسی، اضطراب اور غم و غصے کا لاوا پک رہا ہے۔ موجودہ حالات میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا سہ ملکی اتحاد امت کا محور کسی معجزے سے کم نہیں، لیکن یہی محور اب ایک بڑے اور کٹھن امتحان سے گزر رہا ہے۔ ان کے پاس اسلامی دنیا کا اسٹریٹجک توازن قائم کرنے کا سنہری موقع اور بھاری تاریخی ذمے داری ہے۔ سعودی عرب مسلم دنیا کا روحانی مرکز اور معاشی قوت ہے، ترکیہ نیٹو کی دوسری بڑی فوج اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جب کہ پاکستان امتِ مسلمہ کی واحد ایٹمی طاقت اور بے مثال تجربہ کار افواج کا حامل ہے۔

سہ ملکی اتحاد کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ پورے خطے کو تباہی سے بچانے کا فریضہ انجام دینے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے۔ خاص طور پر پاکستان کی ذمے داری اس بحران میں انتہائی حساس اور فیصلہ کن ہے اس لیے انتہائی باریک بینی اور تدبر کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک طرف پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ، روحانی، دفاعی اور معاشی تعلقات ہیں، حرمین شریفین کا تحفظ اور سلامتی ہر پاکستانی کے ایمان کا جزوِ اعظم ہے جس پر تن من دھن قربان کرنا ہمارا تاریخی اور ایمانی عزم ہے اور دوسری طرف ایران پاکستان کا بلاواسطہ ہمسایہ ملک ہے، جس کے ساتھ ہماری طویل سرحد، تزویراتی تعلقات اور گہرے مذہبی و ثقافتی رشتے قائم ہیں۔ پاکستان نہ تو حرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ کرسکتا ہے اور نہ ہی وہ ایران کی تباہی کا متحمل ہو سکتا ہے۔

کیونکہ ایران کی تباہی، بحران اور انارکی براہِ راست پاکستان کی داخلی سلامتی اور سرحدی امن کے لیے تباہ کن ہوگی۔ لہٰذا اس تاریخی اور نازک گھڑی میں پاکستان کو سہ ملکی اتحاد میں امت کے مصالحتی مرکز اور ثالث کے طور پر خود کو پیش کرنا ہوگا۔ ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ایک ایسا جرات مندانہ اور قابل عمل فریم ورک تیار کرنا ہوگا جس کے دو واضح اہداف ہوں۔ پہلا ہدف حرمین شریفین، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی کامل سلامتی کو یقینی بنانا، تیل کی تنصیبات پر حملوں کا سدِ باب کرنا اور حوثیوں پر اپنے سفارتی اثر و رسوخ کے ذریعے دباؤ بڑھا کر ان پرتشدد اقدامات کو فوراً روکنا ہے۔ دوسرا ہدف امریکا اور اسرائیل کے سامنے ایک مضبوط سفارتی اور اسٹریٹجک دیوار بننا ہے تاکہ ایران پر مزید متوقع تباہ کن حملوں کو روکا جا سکے اور خطے کو صیہونی ایجنڈے کی بھیٹ چڑھنے سے بچایا جائے۔

ہمیں اپنی قوت کو مسلم ممالک کے درمیان فوری مذاکرات شروع کرانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔خطے کے تمام برادر ممالک بشمول ایران اور خلیجی ریاستوں کو ایک میز پر لانا ہوگا تاکہ اندرونی اختلافات کا حل نکالا جا سکے اور غیرملکی سامراجی طاقتوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ مسلم ممالک اپنے مقدس مقامات، اپنی حدود اور اپنے عوام کے مستقبل کی حفاظت خود کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر مسلم ممالک اب بھی بیدار نہ ہوئے اور سامراج کی اس سازش کو نہ سمجھ سکے تو آگے سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اپنی مشترکہ بصیرت اور حکمت سے کام لیتے ہوئے امت کو اس بھیانک دلدل سے نکالیں اور فتح و سلامتی کا نیا باب رقم کریں۔ تادم تحریر دو بڑی اور حوصلہ افزا خبریں آئی ہیں، پہلی خبر ملی دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے قائدین کا دورہ ایران ہے۔

پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کی ایرانی صدر اور عسکری قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں تو اس لحاظ سے نیک شگون ہیں کہ ایران سعودی عرب تناؤ میں کمی اور برادر کش جنگ کو روکنے کے لیے روشنی کی ایک کرن نظر آرہی ہے مگر جنگ کے اختتام اور اتحاد امت پر اس کے اثرات کا انتظار ہے۔

دوسری خبر امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست فاش اور اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی ناکامی اور عرب جماعتوں کے امیدواروں کی فیصلہ کن نمبر میں جیت اور ‘کنگ میکر’ بن کر ابھرنا امن پسند اور پرو فلسطین تحریکوں کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو گا۔ نیتن یاہو کی سخت گیر اور جارحانہ پالیسیوں کو دھچکا لگنے سے غزہ، مغربی کنارے اور وسیع تر خطے میں فوری جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بحالی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم اسرائیل میں دائیں بازو کے گہرے اثرات اور اپوزیشن جماعتوں کے مبہم موقف کی وجہ سے فلسطین کے مستقل حل یا طویل المیعاد امن کی راہ میں سیاسی تعطل اور چیلنجز اب بھی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ