اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کے حوالے سے آٹھ اہم قانونی اصول طے کر دیے۔
عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے طے کردہ اصولوں کے مطابق اگر ضمانت کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی یا ناانصافی پر مبنی ہو، ملزم ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال کرے، استغاثہ کے گواہوں پر دباؤ ڈال کر شواہد کو متاثر کرنے یا رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے، یا عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر فرار ہو جانے کا خدشہ ہو تو ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
علاوہ ازیں تفتیش کے شفاف عمل میں مداخلت کرنے، آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اسی نوعیت کے کسی دوسرے جرم کا ارتکاب کرنے، یا دورانِ تفتیش ایسے نئے حقائق اور شواہد سامنے آنے پر جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کا اشارہ دیں، ضمانت منسوخ کی جائے گی۔
عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمے میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔ کیس کے ریکارڈ کے مطابق لاڑکانہ کے تھانہ رحمت پور میں 3 مارچ 2024 کو درج ہونے والے مقدمے کا وقوعہ پیش آیا تھا، جہاں ڈسپوزل فیز سے اسپیشل لائن کھینچ کر دکانوں کو بجلی فراہم کی جا رہی تھی اور اس دوران تار ٹوٹنے سے نُور حسین نامی شخص جاں بحق ہو گیا تھا۔
اس مقدمے میں سیشن جج لاڑکانہ نے 30 جنوری 2025 کو ملزم علی اصغر کھوکھر کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی تھی، تاہم سندھ ہائیکورٹ سرکٹ کورٹ لاڑکانہ نے 20 اکتوبر 2025 کو ایف آئی آر میں نو ماہ کی تاخیر اور دیگر گراؤنڈز کی بنیاد پر ملزم کی ضمانت منظور کر لی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایف آئی آر میں نو ماہ کی تاخیر اور ملزم کا کردار ایسے امور ہیں جو مزید تحقیق کا تقاضا کرتے ہیں۔
دریں اثنا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی نقل معلومات کے لیے چیئرمین واپڈا کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ بجلی کی غیر قانونی فراہمی، چوری اور پرائیویٹ سائفننگ میں ملوث افراد کے کردار کا واپڈا اور متعلقہ یوٹیلیٹی کمپنی جائزہ لے سکے۔

