امریکا سے نئی سفارتکاری سے قبل تحریری وعدے نہیں عملی اقدامات درکار ہیں، ایران

ali bageri kani1793993819 0



ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے کہا ہے کہ امریکا پر تحریری وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں اور سفارت کاری میں نئی باب کے آغاز سے قبل واشنگٹن کی جانب سے عملی اقدامات درکار ہیں۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے کہا کہ یہ ایران کا حق ہے کہ نئے مرحلے کے سفارتی مذاکرات سے شروع کرنے سے قبل امریکا کی جانب سے محض تحریری یقین دہانیوں پر اکتفا نہ کرے ۔

انہوں نے کہا کہ مزید اقدامات سے قبل کسی بھی مذاکرات میں دوسرے فریق کو ایران کی سات نکاتی عملی تجویز پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

علی باقری کنی نے کہا کہ امریکا نے جارحانہ اقدامات سے سفارتی کوششوں کے چار ادوار ناکام بنائے ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران وعدوں کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کے دورہ روس اور صدر ویلادیمیر پیوٹن سے تین گھنٹے کی طویل ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ رابطے ایران کے سرگرم اور ہدفی سفارت کاری کا بنیادی حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی علاقائی اور خطے سے باہر طاقتوں کے ساتھ مشاورت اور تبادلہ خیال کے لیے بامقصد سفارت کاری اور رابطوں کے تحت اس مرحلے پر عالمی طاقتوں کے ساتھ روابط سفارتی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہیں۔

روسی صدر سے محسن رضائی کی ملاقات کے حوالے سے علی باقری کنی کا کہنا تھا کہ اس پیغام میں ایران کی دوطرفہ تعاون سے متعلق ترجیحات کا خاکہ پیش کیا گیا اور مستقبل میں اس تعاون اور روابط کے حوالے سے اپنا وژن واضح کیا گیا، جس کا مقصد روسی فریق کو یہ بہتر طور پر سمجھانا تھا کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران کے ساتھ تعاون کی نوعیت کیا ہوگی۔

سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے انتظامات کو اس وقت روس، چین اور خطے کے مختلف ممالک کی حمایت حاصل ہے اور مختلف علاقائی فریقوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ان انتظامات پر عمل درآمد کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

علی باقری کنی نے مزید کہا کہ ایران کے اعلیٰ مقاصد کے حصول اور اپنے قومی مفادات، قومی سلامتی، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہماری تیاری ناگزیر ہے۔

انہوں نے علاقائی امور، امن و سلامتی کے قیام اور علاقائی سلامتی کے انتظامات کے حوالے سے اسٹریٹجک حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی دانش مندانہ تدابیر اور اسٹریٹجک اصولوں کے ذریعے دنیا کی اہم طاقتوں میں اپنا مقام بلند کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

علی باقری کنی کا کہنا تھا کہ اس فریم ورک کے تحت ہمیں مختلف ممالک اور فریقین بالخصوص عالمی طاقتوں بشمول دو بڑی طاقتوں روس اور چین کے ساتھ اپنی کوششوں کو درست سمت میں آگے بڑھانے اور اسٹریٹجک مشاورت جاری رکھنے کے قابل ہونا چاہیے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ