بھارتی طلبہ کی جدوجہد – ایکسپریس اردو

2727437 toseefahmedkhannew 1729273230


بھارت میں نوجوان اپنے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کرکے کامیابی حاصل کررہے ہیں۔ بھارت کی تاریخی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے مسلسل جدوجہد کرکے طلبہ یونین کو بحال کرالیا۔ جامعہ ملیہ کی انتظامیہ نے 2006ء کے بعد طلبہ یونین کے انتخابات منعقد نہیں کرائے۔ جامعہ کی انتظامیہ نے طلبہ کی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنا شروع کردیا تھا اور جو طالب علم طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کرتے تھے وہ معتوب قرار پاتے تھے۔ بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا نے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران نئی نسل جس کو Generation Z (جین زی) کہا جاتا ہے کاکروچ قرار دیا جس پر نوجوانوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔ بے روزگار نوجوانوں نے کاکروچ پارٹی قائم کی تھی۔ اس جماعت میں بائیں بازو کی کمیونسٹ پارٹی کے طلبہ محاذ شامل تھے۔ جین زی نے بھارت میں میڈیکل اداروں کے داخلہ ٹیسٹ کے پرچے کے افشاء ہونے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندرا پرادان کے استعفیٰ کے لیے نئی دہلی کے مرکزی علاقہ جنتر منتر میں بھوک ہڑتال شروع کی۔ یہ بھوک ہڑتال 20 دن سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ اس بھوک ہڑتال میں کاکروچ پارٹی کے بانی ابجیت دینک اور نیہا بورا نے بنیادی کردار ادا کیا۔ تبت سے تعلق رکھنے والے سوشل ایکٹیوسٹ سونم اس بھوک ہڑتال میں شریک ہوئے تھے۔ سونم کو حالت خراب ہونے پر اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اسی طرح نیہا بورا اور ان کے کئی ساتھیوں کو بھی طبی علاج کی ضرورت پیش آئی تھی۔ بھارت کی حکومت کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور وزیر تعلیم کو مستعفی ہونا پڑا۔

کاکروچ پارٹی نے ووٹر لسٹوں سے مسلمانوں اور ہندوؤں کی پسماندہ ذاتوں کے 13 کروڑ افراد کے نام خارج کرنے کے فیصلوں کے خلاف بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ اس تحریک میں نوجوانوں کے علاوہ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی، ان کی ہمشیرہ پرنکا گاندھی سمیت سیکڑوں افراد گرفتار ہوئے تھے۔ پولیس نے جنتر منتر پر اس احتجاج کو کور کرنے والے صحافیوںکو جن میں خواتین بھی شامل تھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور یہ رہنما 24 گھنٹوں سے زیادہ مختلف تھانوں میں زیرِ حراست رہے تھے۔ اگرچہ  بھارت کے چیف الیکشن کمشنر نے فوری طور پر استعفیٰ نہیں دیا مگر الیکشن کمیشن کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑی اور بھارت کی مختلف ریاستوں میں الیکشن کمیشن کا عملہ ان افراد کے نام دوبارہ ووٹر لسٹوں میں شامل کرنے کے طریقہ کار کو اپنانے پر مجبور ہوا۔ مگر بھارت کی تمام حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے چیف الیکشن کمیشن کے استعفیٰ کے لیے ایک بھرپور مہم شروع کردی۔ جامعہ ملیہ کے طلبہ نے 12 اکتوبر کو احتجاج شروع کیا تھا۔ نوجوانوں نے اپنے مطالبہ کی حمایت کے لیے گلستان غالب میں بھوک ہڑتال شروع کردی تھی۔ انتظامیہ نے جامعہ میں کلاسیں ختم کردیں اور آن لائن کلاسیں شروع کرنے کا اعلان کیا۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پوری جامعہ کو پولیس اور پیرا ملٹری فورس کے نوجوانوں نے گھیرا ہوا تھا۔ اس احتجاج کو منظم کرنے میں بنیادی کردار بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے ادا کیا تھا۔ انتظامیہ نے طلبہ یونین کی مکمل بحالی کے لیے 6ماہ کا وقت مانگا ہے۔ اس دوران طلبہ یونین کے آئین کو آخری شکل دی جائے گی۔ جامعہ کے رجسٹرار نے طلبہ یونین کی بحالی کے فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ مئی 2027ء تک آئین تیار ہوگا اور آئین تیار کرنے والی کمیٹی میں طلبہ کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا۔ رجسٹرار صاحب نے یہ بھی اعلان کیا کہ جن طلبہ کو طلبہ یونین کی بحالی کے لیے احتجاج کرنے پر یونیورسٹی سے برطرف کیا گیا تھا ان سب نے اس تحریک میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ایک طالبہ نوشین نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ جیت ہماری جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ایک اور طالبہ ثناء نے کہا کہ یہ ایک نئی تاریخ ہے اور جب بھی جامعہ کی تاریخ لکھی جائے گی تو طلبہ یونین کی بحالی کی تاریخ کو یاد کیا جائے گا۔ نوشین نے تو یہ بھی کہا کہ جب تک طلبہ کا ہجوم جمع نہ ہوا انھیں یقین نہیں آرہا تھا، ہم سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ جامعہ کے طلبہ نے اپنی اس کامیابی کا جشن منایا اور مٹھائی بانٹی گئی۔ طلبہ نے جامعہ کے وائس چانسلر کو بھی مٹھائی پیش کی۔ جامعہ کے طلبہ کو یہ کامیابی جامعہ کے فاؤنڈیشن کے دن ملی۔

جامعہ ملیہ ایک تاریخی جامعہ ہے۔ جامعہ کی بنیاد 29 اکتوبر 1920ء کو علی گڑھ میں رکھی گئی تھی۔ اس وقت کانگریس کی انگریز حکومت سے عدم تعاون کی تحریک کے ساتھ خلافت تحریک عروج پر تھی۔ اس جامعہ کے قیام کا مقصد انگریز راج کے زیر ِ کنٹرول یونیورسٹیوں کے مقابلہ میں ایک نئی یونیورسٹی قائم کرنا تھا۔ اس جامعہ کا سنگ بنیاد جمعیت علمائے ہند کے سربراہ مولانا محمود حسن، حکیم اجمل خان اور مولانا محمد علی جوہر نے رکھا تھا۔ حکیم اجمل خان کو جامعہ کا پہلا چانسلر اور مولانا محمد علی جوہر کو پہلا وائس چانسلر مقرر کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور ڈاکٹر ذاکر حسین اس جامعہ کے وائس چانسلر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین بعد میں بھارت کے پہلے مسلمان صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔ 1935ء میں جامعہ کو دہلی منتقل کیا گیا۔ بھارت کے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن نے 1962ء میں جامعہ کو ایک مکمل یونیورسٹی کی حیثیت سے چارٹر دیا۔ اس وقت جامعہ ملیہ میں 24 ہزار 138 طالب علم زیر ِ تعلیم ہیں۔

جامعہ ملیہ میں 63 فیصد طلبہ مسلمان ہیں جبکہ ہندوؤں کی تعداد 34 فیصد ہے۔ اس وقت جامعہ میں طالبات کی تعداد 30 فیصد ہے۔ جامعہ ملیہ میں بائیں بازو کی چار طلبہ تنظیمیں متحرک ہیں۔ ان میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (A.I.S.A)، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (S.F.I)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (A.I.S.F) اور آل انڈیا اسلامی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (A.I.I.S.O) شامل ہیں۔ ان بائیں بازو کی تنظیموں کے علاوہ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (S.I.O) بھی جامعہ میں کام کرتی ہے، مگر شائع ہونے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے کارکنوں نے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا اور ان تنظیموں کے رہنماؤں نے گلستان غالب میں بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ انتظامیہ نے ان تنظیموں کے کئی کارکنوں کو جامعہ سے برطرف کردیا تھا۔

بھارت میں بعض یونیورسٹیوں میں طلبہ یونین کا ادارہ خاصا قدیم ہے۔ ان یونیورسٹیوں میں علی گڑھ یونیورسٹی، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی جامعہ ملیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ بھارت کی دہلی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا پہلا انتخاب 1954ء میں ہوا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے دہلی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا افتتاح کیا تھا۔ اسی طرح علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبہ یونین کا اہم کردار ہے۔ جب آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر بیرسٹر محمد علی جناح نے پاکستان کے قیام کا نعرہ بلند کیا تو علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے عہدیداروں نے پاکستان کے نعرے کو مسلمانوں میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ہمیشہ بائیں بازو کے اساتذہ کا غلبہ رہا۔

اس یونیورسٹی میں 1974ء میں طلبہ یونین قائم ہوئی تھی۔ جواہر لعل یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے عہدیداروں نے ہندو انتہاپسندی کے خلاف عوام میں شعور پیدا کرنے اور مظلوم طبقات کے حقوق کو اجاگر کرنے میں خاصا اہم کردار ادا کیا ہے۔ بھارت کی حکومت اس یونیورسٹی کی طلبہ یونین کو ریگولیٹ کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔ پاکستان میں طلبہ یونین نے طلبہ میں انتظامی اور سماجی شعور اور جمہوری رویہ کی روایت قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں کی طلبہ یونین کے عہدیداروں نے سیاست، وکالت، صحافت، سیاسی جماعتوں کے ارتقاء اور پارلیمنٹ کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ