سندھ حکومت کا صنعتوں میں بجلی کے نظام کی سالانہ جانچ پڑتال کا فیصلہ

Big Industries1737068572 0


سندھ حکومت نے نجی شعبے کی تمام عمارتوں میں بجلی کی تنصیبات کے سالانہ انسپکشن کا فیصلہ کرتے ہوئے نوٹسز جاری کردیے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت سندھ کے انرجی ڈیپارٹمنٹ نے سال 2003 کا نوٹیفکیشن معطل کرکے نجی شعبے کی تمام  عمارتوں میں بجلی کی تنصیبات کی سالانہ انسپکشن کے نوٹسز جاری کردیئے ہیں تاہم فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے صنعتی یونٹس کی سالانہ انسپکشن کو صنعتی شعبے پر ایک نیا بوجھ قرار دیا۔

ایسوسی ایشن نے الیکٹرک انسپکٹریٹ کی جانب سے بھیجے نوٹسز واپس لینے کامطالبہ کردیا ہے۔

فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر سید رضا حسین نے کہا ہے کہ صنعتی شعبہ الیکٹرک انسپکٹریٹ کے صنعتی یونٹوں کی سالانہ انسپکشن کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ صنعتوں کی انسپکشن کا فیصلہ صنعتی سرگرمیوں میں مداخلت کے مترادف ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعتی شعبے کو الیکٹرک انسپکٹریٹ کے فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور بجلی کی تنصیبات کی انسپکشن کا دائرہ کار صرف کمرشل عمارتوں تک محدود رکھا جائے۔ جاری کردہ نوٹسز سے صنعتکاروں میں اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ پہلے ہی مہنگی بجلی، گیس، بھاری ٹیکسوں کے بوجھ کے ساتھ پانی کے مسائل سے دوچار ہے لہذا اب مزید سرکاری مداخلت ناقابل قبول ہے۔

صدر فباٹی نے کہا کہ صنعتی یونٹس کی بار بار انسپکشن سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے لیذا حکومت صنعتی شعبے کو غیر ضروری ضابطوں اور انتظامی رکاوٹوں سے نجات دلائے، الیکٹرک انسپکٹریٹ صنعتی شعبے کے بجائے کمرشل عمارتوں کی انسپکشن تک محدود رہے۔

انہوں نے صنعتوں کو الیکٹرک انسپکٹریٹ سے استثنی دینے کے لیے سال 2003 کا نوٹیفکیشن بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ